ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے خطے کے اسلامی ممالک کے درمیان عدم جارحیت کے معاہدے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ مشترکہ سکیورٹی انتظامات کے لیے تیار ہے۔
تہران میں اسلامی اتحاد کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسعود پزشکیان نے کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنے درمیان پیدا ہونے والے تنازعات کو بیرونی طاقتوں پر انحصار کرنے کے بجائے باہمی طور پر حل کرنا چاہیے،انہوں نے کہا کہ اسلامی ممالک کے درمیان تعاون اور مشترکہ سکیورٹی کا نظام خطے میں دیرپا امن کے قیام میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
تنازعات باہمی طور پر حل کرنے پر زور
ایرانی صدر نے کہا کہ اگر اسلامی ممالک کے درمیان کوئی تنازع یا اختلاف پیدا ہوتا ہے تو اسے مذاکرات اور باہمی مشاورت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے، خطے کے ممالک کو ایک دوسرے کے خلاف دشمنی بڑھانے کے بجائے مشترکہ مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے،مسعود پزشکیان نے اسلامی ممالک کے درمیان اعتماد سازی اور مسلسل رابطوں کو خطے کے مستقبل کے لیے ضروری قرار دیا۔
ایرانی صدر نے کہا کہ ایران اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ مشترکہ سکیورٹی انتظامات قائم کرنے کے لیے تیار ہے،خطے کے ممالک اگر سکیورٹی کے معاملات میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں تو بیرونی مداخلت اور کشیدگی کے امکانات کو کم کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے اسلامی ممالک پر زور دیا کہ وہ خطے کی سلامتی کو اجتماعی ذمہ داری سمجھیں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جن سے کسی ایک ملک کے خلاف دوسرے ممالک کی سرزمین استعمال ہونے کا خدشہ پیدا ہو۔
جنگ کے تجربے کا حوالہ
مسعود پزشکیان نے واضح کیا کہ ایران کی جانب سے یہ پیشکش کمزوری کی بنیاد پر نہیں بلکہ جنگ سے حاصل ہونے والے تجربات کی بنیاد پر کی جارہی ہے،ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنے دفاع کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم جنگ کے نقصانات اور اس کے نتائج نے یہ سبق دیا ہے کہ خطے کے ممالک کو کشیدگی اور تصادم کے بجائے امن، مذاکرات اور تعاون کو ترجیح دینی چاہیے۔
ایران کا دفاع دشمنی نہیں
ایرانی صدر نے کہا کہ ایران کا اپنے دفاع کے لیے اقدامات کرنا مسلم ممالک کے ساتھ دشمنی کے مترادف نہیں ہے۔ انہوں نے اسلامی ممالک کے درمیان غلط فہمیوں اور بداعتمادی کو کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
خطے میں پائیدار امن اسی صورت ممکن ہے جب اسلامی ممالک ایک دوسرے کی خودمختاری اور سلامتی کا احترام کریں اور باہمی اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔
پلیٹ فارم بننے سے گریز کرنا چاہیے
مسعود پزشکیان نے اسلامی ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین کو ایک دوسرے کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکیں،انہوں نے کہا کہ خطے کے ممالک کو ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کرنا چاہیے جس سے ایک اسلامی ملک دوسرے اسلامی ملک کے خلاف کارروائی کے لیے کسی ملک کی سرزمین یا سہولت استعمال کرسکے۔
علاقائی امن کے لیے تعاون ضروری
ایرانی صدر نے خطے میں امن و استحکام کے لیے اسلامی ممالک کے درمیان تعاون اور مشترکہ سکیورٹی انتظامات کو ناگزیر قرار دیا،انہوں نے کہا کہ اسلامی ممالک کے درمیان مضبوط تعاون نہ صرف خطے میں تنازعات کو کم کرسکتا ہے بلکہ باہمی اعتماد میں اضافے اور مشترکہ مفادات کے تحفظ میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔
مسعود پزشکیان کی جانب سے عدم جارحیت معاہدے اور مشترکہ سکیورٹی انتظامات کی تجویز ایسے وقت سامنے آئی ہے جب خطے میں سکیورٹی صورتحال اور مختلف ممالک کے درمیان کشیدگی بدستور عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔