گیس بلوں میں کیا بدلنے والا ہے؟ وفاقی وزیر پٹرولیم نے راز کھول دیا

گیس بلوں میں کیا بدلنے والا ہے؟ وفاقی وزیر پٹرولیم نے راز کھول دیا

وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے گیس سبسڈی کے موجودہ نظام اور مختلف صارفین کے لیے رائج گیس قیمتوں کے سلیب پر نظرثانی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام صارفین کے لیے منصفانہ اور یکساں گیس قیمت کی جانب مرحلہ وار منتقلی ضروری ہے جبکہ کمزور طبقات کو براہ راست اور ہدفی سماجی تحفظ کے پروگرامز کے ذریعے تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے۔

وفاقی وزیر پٹرولیم نے کراچی میں سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (SSGCL) کے اجلاس کی صدارت کی جس میں کمپنی کی مجموعی کارکردگی مالی صورتحال گیس کی ترسیل و تقسیم نقصانات میں کمی اور ادارے میں جاری اصلاحات کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں وفاقی وزیر نے ایس ایس جی سی بورڈ کو ادارے کی مالی اور انتظامی پائیداری مزید مضبوط بنانے اور درپیش انتظامی و آپریشنل چیلنجز کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایت کی۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ گیس سبسڈی کے موجودہ نظام اور قیمتوں کے مختلف سلیب کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے گیس کے شعبے میں ایسا نظام تشکیل دینا ضروری ہے جو تمام صارفین کے لیے منصفانہ ہو۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ طویل مدت میں تمام صارفین کے لیے منصفانہ اور یکساں گیس قیمت کی جانب منتقلی ضروری ہے تاہم اس عمل کے دوران کمزور اور مستحق طبقات کے مفادات کا تحفظ کیا جانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:ایزی پیسہ صارفین کے لیے بڑی خوشخبری آ گئی

انہوں نے تجویز دی کہ کمزور طبقات کو عمومی سبسڈی کے بجائے ٹارگیٹڈ سماجی تحفظ کے پروگرامز کے ذریعے براہ راست سہولت فراہم کی جائے تاکہ سبسڈی کا فائدہ حقیقی مستحق افراد تک پہنچ سکے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں گیس کے نرخ، مختلف سلیب اور سبسڈی کا نظام صارفین کے لیے اہم مالی معاملہ بن چکا ہے۔ نئی پالیسی کی صورت میں مختلف کیٹیگریز کے صارفین کے لیے گیس کے بلوں پر اس کے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، تاہم اجلاس میں فوری طور پر کسی نئی قیمت یا اضافے کا اعلان نہیں کیا گیا۔

اجلاس میں ایس ایس جی سی کے مینجنگ ڈائریکٹر نے کمپنی کی کارکردگی کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گیس ڈسٹری بیوشن سسٹم میں نمایاں بہتری آئی ہے جبکہ Unaccounted for Gas (UFG) میں 57 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

حکام کے مطابق کے الیکٹرک صنعتی صارفین اور فرٹیلائزر پلانٹس کے لیے گیس کی لوڈشیڈنگ نہیں کی جا رہی جبکہ گھریلو صارفین کو روزانہ تین مرتبہ گیس فراہم کی جا رہی ہے۔

وفاقی وزیر نے کمپنی کی کارکردگی میں بہتری کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ آپریشنل کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ریونیو ریکوری اور دستیاب وسائل کے مؤثر استعمال پر بھی خصوصی توجہ دی جائے۔

علی پرویز ملک نے بلوچستان میں گیس فراہمی سے متعلق مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایت کی۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں گیس چوری، تکنیکی مسائل اور انفراسٹرکچر سے متعلق رکاوٹوں کو دور کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے ایس ایس جی سی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ صوبے میں گیس صارفین کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

وفاقی وزیر نے گیس چوری اور سسٹم لاسز میں کمی کو کمپنی کی مالی پائیداری کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ نقصانات پر قابو پائے بغیر گیس کمپنی کو طویل مدت میں مالی طور پر مستحکم نہیں کیا جاسکتا۔

اجلاس میں وفاقی وزیر پٹرولیم نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال سے گیس کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا گیا جبکہ حکومت نے گیس سیکٹر کے سرکلر ڈیٹ میں اضافے کو تقریباً روک دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت عالمی بینک کے تعاون سے گیس کے شعبے میں جامع اصلاحات پر کام کر رہی ہے جن کا مقصد گیس سیکٹر کو زیادہ مؤثر شفاف اور مالی طور پر پائیدار بنانا ہے۔

علی پرویز ملک نے ایس ایس جی سی بورڈ کو ہدایت کی کہ ادارے کی اصلاحات کو مزید تیز کیا جائے گیس چوری اور نقصانات میں کمی لائی جائے ریونیو وصولی بہتر بنائی جائے اور صارفین کو گیس کی بلاتعطل فراہمی کے لیے نظام میں موجود خامیوں کو دور کیا جائے۔

اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ گیس سیکٹر میں اصلاحات کے ساتھ صارفین کے مفادات کا تحفظ بھی یقینی بنایا جائے جبکہ مستقبل کے گیس ٹیرف اور سبسڈی نظام میں شفافیت اور منصفانہ تقسیم کو بنیادی اہمیت دی جائے گی

Qaisar Mirza
editor

Related Articles