پاک فوج کے 6، فضائیہ کے 2 اور بحریہ کے ایک افسر کو سول سروس مل گئی

پاک فوج کے 6، فضائیہ کے 2 اور بحریہ کے ایک افسر کو سول سروس مل گئی

 فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) نے CSS مسابقتی امتحان 2025 کے تحت مسلح افواج سے تعلق رکھنے والے 9 افسران کو سول سروسز کے مختلف گروپس میں شامل کرنے کی سفارش کردی۔

ایف پی ایس سی کی جانب سے 25 اگست 2026 کو جاری پریس ریلیز کے مطابق مسلح افواج کے افسران کے لیے نفسیاتی جائزے اور انٹرویو (Viva Voce) کا عمل مکمل کیا گیا جس کے بعد کامیاب امیدواروں کو ان کے ڈومیسائل اور میرٹ و متعلقہ قواعد کے مطابق مختلف گروپس میں الاٹ کرنے کی سفارش کی گئی۔

کمیشن کے مطابق مجموعی طور پر 9 افسران کو پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (PAS)، پولیس سروس آف پاکستان (PSP) اور فارن سروس آف پاکستان (FSP) میں جگہ دینے کی سفارش کی گئی ہے۔

پاک فوج کے 6 افسران مختلف گروپس کے لیے منتخب

ایف پی ایس سی کے جاری کردہ نتائج کے مطابق پاک فوج سے تعلق رکھنے والے کیپٹن سید عتیق الرحمن کو سندھ (شہری) کے ڈومیسائل پر پولیس سروس آف پاکستان (PSP) الاٹ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

کیپٹن سید شہریار خان، جن کا ڈومیسائل خیبر پختونخوا ہے کو پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (PAS) کے لیے مختص کیا گیا ہے۔

اسی طرح پنجاب سے تعلق رکھنے والے کیپٹن اسامہ مجتبیٰ اور کیپٹن حیدر علی کو بھی PAS الاٹ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

پاک فوج کے کیپٹن شیراز احمد کو پنجاب کے ڈومیسائل پر فارن سروس آف پاکستان (FSP) جبکہ کیپٹن سید تیمور علی کو PSP کے لیے مختص کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:گیس بلوں میں کیا بدلنے والا ہے؟ وفاقی وزیر پٹرولیم نے راز کھول دیا

پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے افسران بھی شامل

CSS 2025 کے ذریعے مسلح افواج سے سول سروسز میں آنے والے افسران میں پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے افسران بھی شامل ہیں۔

پاک فضائیہ کے فلائٹ لیفٹیننٹ اسفہ علی مسعود، پنجاب کے ڈومیسائل کے ساتھ FSP کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔

فلائٹ لیفٹیننٹ اسامہ احمد جن کا ڈومیسائل خیبر پختونخوا ہے کو PAS الاٹ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

پاک بحریہ کے لیفٹیننٹ ایاز حسین سندھ (دیہی) کے ڈومیسائل کے ساتھ PAS کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔

کس گروپ میں کتنے افسران؟

ایف پی ایس سی کی فہرست کے مطابق مسلح افواج سے تعلق رکھنے والے 9 افسران میں

  • PAS: 5 افسران

  • PSP: 2 افسران

  • FSP: 2 افسران

شامل ہیں۔

یوں سب سے زیادہ 5 افسران کو پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے جبکہ دو دو افسران کو پولیس اور فارن سروس کے لیے مختص کیا گیا ہے۔

ایف پی ایس سی نے اہم وضاحت بھی جاری کردی

کمیشن نے واضح کیا ہے کہ نتائج کی درستگی اور صحت کو یقینی بنانے کے لیے مکمل احتیاط برتی گئی ہے تاہم کسی بھی ممکنہ غلطی یا کوتاہی کی صورت میں اسے درست کرنے کا حق کمیشن کے پاس محفوظ ہے۔

ایف پی ایس سی کے مطابق یہ سفارشات CSS Competitive Examination 2025 کے تحت مسلح افواج کے افسران کے نفسیاتی جائزے اور انٹرویو کے بعد سامنے آئی ہیں۔

مسلح افواج کے افسران کی سول سروسز میں شمولیت کا یہ عمل CSS کے ذریعے فوجی افسران کو انتظامی پولیس اور سفارتی شعبوں میں خدمات انجام دینے کا موقع فراہم کرتا ہے اس فہرست میں خاص طور پر PAS، PSP اور FSP جیسے اہم گروپس میں افسران کی تعیناتی کی سفارش کی گئی ہے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles