اسلام آباد ہائیکورٹ نے پمز اسپتال میں سہولیات پر سوالات اٹھا دیے

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پمز اسپتال میں سہولیات پر سوالات اٹھا دیے

اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت کے سب سے بڑے طبی ادارے پاکستان انسٹیٹوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں پیش آنے والے دردناک سانحے اور بنیادی سہولیات کی عدم موجودگی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسپتالوں میں سہولیات کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے۔

ایک کیس کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محمد آصف نے ریمارکس دیے کہ اسپتال میں ایسے ناگہانی واقعات سے نمٹنے کے لیے تمام تر سہولیات ہونی چاہییں کیونکہ شہریوں کو صحت کی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پمز سانحہ،نومولود بچوں کی ہلاکت پر شوبز شخصیات بھی پھٹ پڑیں

عدالت نے 14 بچوں کی جانیں ضائع ہونے پر انتہائی دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسپتال کی حالتِ زار پر گہرے تحفظات پیش کیے۔

پمز کی حالتِ زار اور جسٹس محمد آصف کے ریمارکس

اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران پمز اسپتال میں گزشتہ روز پیش آنے والے خوفناک واقعے اور 14 معصوم بچوں کی ہلاکت کا معاملہ زیرِ بحث آیا۔

سماعت کرتے ہوئے جسٹس محمد آصف نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد جیسے شہر کے اتنے بڑے اسپتال میں یہ سب کچھ ہوا اور ہماری حالت یہ ہے کہ 14 معصوم بچے اپنی جان کی بازی ہار گئے۔

فاضل جج نے حکومت اور متعلقہ حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں کو اسپتال کی اس ناگفتہ بہ حالت کی طرف فوری توجہ دینی چاہیے کیونکہ وہاں کچھ بھی نہیں ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسی صورت حال اور سہولیات کے فقدان کے ہوتے ہوئے لوگ علاج کے لیے پمز کیسے جائیں گے؟ اسپتالوں میں ایسی تمام تر ایمرجنسی سہولیات اور انتظامات موجود ہونے چاہییں تاکہ آئندہ کسی بھی ناگہانی واقعے یا ایمرجنسی سے بروقت اور مؤثر طریقے سے نمٹا جا سکے۔

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بیرسٹر ظفر اللہ کا ردِعمل

سماعت کے دوران عدالت میں موجود ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بیرسٹر ظفر اللہ نے بھی پمز اسپتال کے اس دلخراش سانحے پر گہرے افسوس اور غم کا اظہار کیا۔

انہوں نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ روز پمز اسپتال میں جو سانحہ ہوا ہے اس کا بہت افسوس ہے۔ بیرسٹر ظفر اللہ کا کہنا تھا کہ اس دردناک واقعے اور اسپتال کی ایسی حالت دیکھ کر بطور شہری میرا سَر شرم سے جھک گیا ہے۔

پمزاسپتال کا سانحہ اور انتظامی غفلت

اسلام آباد کا پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) نہ صرف وفاقی دارالحکومت بلکہ گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا سے آنے والے لاکھوں مریضوں کا واحد بڑا علاج گاہ مرکز سمجھا جاتا ہے۔

تاہم گزشتہ روز پمز اسپتال کے مدر اینڈ چائلڈ، نرسری وارڈ میں آگ بھڑک اٹھی اور حفاظتی و ایمرجنسی تدابیر کے فقدان کی وجہ سے کم از کم 14 نومولود بچے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

اس واقعے کے بعد پورے ملک میں عوامی غم و غصہ پایا جا رہا ہے اور عوامی حلقوں کی جانب سے اسپتال انتظامیہ اور بیوروکریسی کی شدید غفلت کو اس المیے کا ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے۔

کیا عدالتی ریمارکس سے حکومتی صفوں میں بیداری آئے گی؟

اسلام آباد ہائیکورٹ اور بالخصوص جسٹس محمد آصف کے ریمارکس اس تلخ حقیقت کو مکمل طور پر بے نقاب کرتے ہیں کہ وفاقی دارالحکومت میں واقع ملک کے سب سے بڑے اور اہم ترین اسپتالوں کی بنیادیں بھی کس قدر کمزور اور کھوکھلی ہیں۔

مزید پڑھیں:پمز سانحہ میں جاں بحق 14 بچوں کی میتیں ورثاء کے حوالے کر دی گئیں

جب 14 معصوم بچوں کی سانسیں محض ایمرجنسی نظام کی ناکامی یا ناقص سہولیات کی وجہ سے اکھڑ جائیں تو یہ صرف ایک اسپتال کی ناکامی نہیں بلکہ پورے حکومتی انتظامی اسٹرکچر پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔

عدالت کا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ شہریوں کو صحت کے تحفظ کی فراہمی حکومت کا آئینی و بنیادی فرض ہے۔ محض سانحے کے بعد انکوائریاں قائم کرنے یا دکھ کے بیانات دینے سے ضائع ہونے والی معصوم جانیں واپس نہیں آ سکتیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ان سخت اور واضح ریمارکس کو ایک الارم سمجھا جائے اور پمز سمیت تمام سرکاری اسپتالوں کا ایمرجنسی اور فائر سیفٹی آڈٹ کروا کر فوری طور پر ہر قسم کے ضروری و جدید آلات فراہم کیے جائیں تاکہ آئندہ کسی غریب شہری کا بچہ ایسی بے حسی کی نذر نہ ہو۔

Related Articles