پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر (ای ڈی) پروفیسر ڈاکٹر رانا عمران سکندر کی تعیناتی سے متعلق سوشل میڈیا پر پاکستان آرمی اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف چلائی جانے والی منفی مہم مکمل طور پر بے بنیاد اور من گھڑت ثابت ہو گئی ہے۔
دستیاب میڈیا ریکارڈ اور دستاویزات کے مطابق ای ڈی پمز کی تعیناتی اپریل 2023 میں اس وقت کے پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیرِ صحت عبدالقادر پٹیل نے کی تھی۔
26 اگست 2026 کو پمز کے نرسری وارڈ میں پیش آنے والے دلخراش سانحے کے بعد اس معاملے کو بلاوجہ سیکیورٹی اداروں کے سر تھوپنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
A Lie may Travel a Year but the truth will catch up in a day‼️‼️
🔺Since tragic incident of PIMS, few social media accounts of PTI and liberals started propagating a fake narrative that senior administration of PIMS is given to army officials during interim government. This… pic.twitter.com/kByub6S2P0
— The Intel Consortium (@IntelPk_) August 27, 2026
19 اپریل 2023 کے میڈیا ثبوت اور عبدالقادر پٹیل کا کردار
سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے جھوٹے تاثر کے برعکس، پاکستان کے معروف اور معتبر قومی روزنامے ‘ڈان’ کی 19 اپریل 2023 کی اشاعت میں ای ڈی پمز کی تعیناتی کی خبر واضح طور پر شائع ہوئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:سانحہ پمز اسپتال، نرسری میں آگ کے اندرونی مناظر، جاں بحق بچوں کی لاشوں کو نکالنے کی دلخراش ویڈیوز سامنے آگئیں
اس وقت کی میڈیا رپورٹس اور سرکاری ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران اس وقت کے وفاقی وزیرِ صحت عبدالقادر پٹیل نے پروفیسر ڈاکٹر رانا عمران سکندر کو باقاعدہ ضوابط کے تحت پمز کا ایگزیکٹو ڈائریکٹر تعینات کیا تھا ۔
19 اپریل 2023 کی میڈیا میں یہ خبر شائع ہوئی کہ اس وقت کے پاکستان پیپلز پارٹی کے وزیر صحت عبدالقادر پٹیل نے ڈاکٹر رانا عمران سکندر کو پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز(پمز) میں بطور ایگزیکٹو ڈائریکٹر(ای ڈی) تعینات کیا گیا ہے۔
تمام دستیاب ثبوت اور 2019 کے ڈیٹا کے جائزے کے بعد یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ ای ڈی پمز کی تعیناتی کے تمام تر اختیارات اور فیصلے کا تعلق خالصتاً پاکستان پیپلز پارٹی کی وزارتِ صحت سے تھا۔
2019کے دستیاب ڈیٹا کے مطابق ’ای ڈی ‘ پمز رانا عمران سکندر کی تعیناتی کا یہ الزام مکمل بے بنیاد اور من گھڑت ہے، دستیاب تمام تر ثبوتوں کے مطابق ’ای ڈی ‘ پمز کی تعیناتی میں تمام تر ہاتھ پاکستان پیپلزپارٹی کا ہے،اس انتظامی فیصلے میں پاک آرمی یا اسٹیبلشمنٹ کا کسی بھی قسم کا کوئی عمل دخل یا ہاتھ نہیں تھا۔
26 اگست 2026 کے سانحے کے بعد منفی مہم کا آغاز
26 اگست 2026 کو پمز اسپتال کے نرسری وارڈ میں آگ لگنے کا انتہائی دردناک اور افسوسناک سانحہ پیش آیا، اب 26 اگست 2026 کو پمز اسپتال کی نرسری وارڈ میں لگنے والی آگ کے سانحے کے بعد سوشل میڈیا پرپاکستان آرمی اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف یہ پروپیگنڈا پھیلایا جا رہا ہے کہ ’ای ڈی ‘ پمز کی تعیناتی کے پیچھے پاک آرمی اور اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے۔
ED PIMS is prime person responsible for criminal negligence & yet he stays but secretary health who is part of BOG oversight is suspended. #Governance pic.twitter.com/ClDejlFk1K
— Fauzia Yazdani (@yazdanifauzia) August 26, 2026
اس المناک واقعے کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر بعض عناصر کی جانب سے ایک دم سے منفی مہم شروع کر دی گئی جس میں یہ زہریلا پروپیگنڈا کیا گیا کہ ای ڈی پمز کی تعیناتی کے پیچھے پاک آرمی اور اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے۔
مزید پڑھیں:پمز اسپتال واقعہ پر وزیر اعظم نے اسلام آباد میں ہنگامی اجلاس طلب کر لیا
لیکن تمام تر ثبوتوں اور سرکاری ریکارڈز نے اس پروپیگنڈے کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے اور یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ محض اداروں کو بدنام کرنے کی ایک ناکام کوشش تھی
پمز کی انتظامی تاریخ اور تعیناتیوں پر سیاست
واضح رہے کہ پمز اسپتال اسلام آباد کا سب سے بڑا سرکاری طبی مرکز ہے جہاں کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی تعیناتی ہمیشہ سے وفاقی وزارتِ صحت کے دائرہ اختیار میں رہی ہے۔
ماضی میں بھی مختلف سیاسی دورِ حکومت میں وزارتِ صحت ہی ای ڈی کی تعیناتی کے لیے سمری تیار کر کے منظوری دیتی رہی ہے۔
اپریل 2023 میں پی ڈی ایم حکومت کے دوران صحت کا قلمدان پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس تھا اور عبدالقادر پٹیل کے دور میں ہی ڈاکٹر رانا عمران سکندر کو ای ڈی مقرر کیا گیا تھا۔
کسی بھی اسپتال کے سانحے کو بنیاد بنا کر ماضی کی انتظامی تعیناتیوں کا ملبہ پاک فوج پر ڈالنا محض عوامی توجہ اصل حقائق سے ہٹانے کا طریقہ ہے۔
سانحات پر سیاست اور اداروں کے خلاف ڈس انفارمیشن کا تدراک
اگر اس پورے معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ہمارے ہاں کسی بھی بڑی ناگہانی یا حادثے کے بعد اصل مسئلے پر بات کرنے کے بجائے حقائق کو موڑ کر مخصوص مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔
پمز نرسری وارڈ کا سانحہ ایک سنگین انتظامی اور فائر سیفٹی کا المیہ تھا جس پر شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کا تعین ہونا چاہیے تھا۔
یہ بھی پڑھیں:پمز اسپتال آتشزدگی سانحہ، 8 رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل، 5 بچوں کی میتیں لواحقین کے حوالے اور ایم سی ایچ وارڈ سیل
تاہم اس دردناک واقعے کو ڈھال بنا کر 2023 کے ایک سیاسی انتظامی فیصلے کو پاک آرمی اور اسٹیبلشمنٹ سے جوڑنا نہ صرف گمراہ کن ہے بلکہ یہ ڈس انفارمیشن کی ایک خطرناک مثال بھی ہے۔
اب 26 اگست 2026 کو پمز اسپتال کی نرسری وارڈ میں لگنے والی آگ کے سانحے کے بعد سوشل میڈیا پرپاکستان آرمی اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف یہ پروپیگنڈا پھیلایا جا رہا ہے کہ ’ای ڈی ‘ پمز کی تعیناتی کے پیچھے پاک آرمی اور اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے۔
میڈیا کے تحریری ریکارڈ کی موجودگی میں ایسے فیک نیوز اور پروپیگنڈے خود بخود دم توڑ دیتے ہیں۔ عوامی حلقوں اور صحافتی برادری کو ایسے حساس موقع پر تصدیق شدہ ثبوتوں پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے تاکہ اصل ذمہ داروں کا تعین ہو سکے اور اداروں کے خلاف بے بنیاد افواہوں کا خاتمہ ممکن ہو۔


