بھارت کو سندھ طاس معاہدے پر عمل کرنا ہوگا، پاکستانی سفیر کا دوٹوک پیغام

بھارت کو سندھ طاس معاہدے پر عمل کرنا ہوگا، پاکستانی سفیر کا دوٹوک پیغام

امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ تقریباً 6 دہائیوں سے قائم سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کرے۔ بھارت کی جانب سے معاہدے کے حوالے سے یکطرفہ اقدامات جنوبی ایشیا میں امن اور سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

بھارتی مؤقف کا مدلل جواب

رضوان سعید شیخ نے امریکی میگزین میں تحریر کیے گئے مضمون میں امریکا میں بھارتی سفیر کی جانب سے شائع کیے گئے مضمون کا جواب دیتے ہوئے سندھ طاس معاہدے سے متعلق پاکستان کا مؤقف واضح کیا۔

پاکستانی سفیر نے کہا کہ بھارت مسلسل سندھ طاس معاہدے کی ساخت تاریخ مقصد اور افادیت کو مسخ کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ ان کے مطابق ستمبر 1960 میں طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے لیے کوئی رعایت نہیں تھا بلکہ ایک طویل عرصے تک جاری رہنے والے مذاکرات کا نتیجہ تھا۔

سندھ طاس معاہدے میں دریاؤں کی تقسیم

رضوان سعید شیخ کے مطابق معاہدے کے تحت بھارت کو مشرقی دریاؤں راوی بیاس اور ستلج کے استعمال کا حق دیا گیا جبکہ پاکستان کو مغربی دریاؤں سندھ جہلم اور چناب کے پانیوں کا حق حاصل ہوا۔

انہوں نے کہا کہ معاہدے کو بھارت کی جانب سے ناانصافی پر مبنی قرار دینا ان حالات کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے جن میں فریقین کے درمیان اس معاہدے کے لیے مذاکرات ہوئے تھے۔

ہائیڈرو پاور منصوبوں پر بھی پاکستان کا مؤقف واضح

پاکستانی سفیر نے بھارت کی جانب سے پاکستان پر بھارتی ہائیڈرو پاور منصوبوں میں رکاوٹیں ڈالنے کے الزام کو بھی مسترد کردیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ عدالت بھی اس بات کی تصدیق کرچکی ہے کہ مغربی دریاؤں پر بھارت کے ہائیڈرو پاور منصوبے سندھ طاس معاہدے میں طے کردہ حدود کے مطابق ہونے چاہئیں۔

رضوان سعید شیخ نے کہا کہ ایسی صورتحال میں تنازعے کے حل کے لیے کوشش یا ثالثی کسی رکاوٹ کے مترادف نہیں بلکہ معاہدے کے تحت حاصل حق کا استعمال ہے۔

بھارت یکطرفہ طور پر معاہدہ ختم نہیں کرسکتا

پاکستانی سفیر نے کہا کہ قانونی لحاظ سے سندھ طاس معاہدہ بدستور مؤثر نافذ العمل اور دونوں فریقین پر لاگو ہے۔ ان کے مطابق کوئی بھی ریاست غیر متعلقہ سیاسی یا سکیورٹی الزامات کی بنیاد پر عالمی معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں سے بری الذمہ نہیں ہوسکتی۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے الزامات یا دیگر دوطرفہ تنازعات بھارت کو سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے اس کا احترام نہ کرنے یا اسے یکطرفہ طور پر دوبارہ تحریر کرنے کا حق نہیں دیتے۔

مذاکرات کے ذریعے تنازع حل کرنے پر زور

رضوان سعید شیخ نے دوٹوک مؤقف اختیار کیا کہ سندھ طاس معاہدے میں ایسی کوئی شق موجود نہیں جس کے تحت کوئی ایک فریق اسے یکطرفہ طور پر معطل یا ختم کرسکے۔ ان کے مطابق معاہدہ اس وقت تک ختم نہیں ہوسکتا جب تک دونوں حکومتوں کے درمیان باقاعدہ اور قابل توثیق معاہدہ نہ ہوجائے۔

پاکستانی سفیر نے بھارت پر زور دیا کہ وہ سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور ادارہ جاتی سطح پر موجود طریقہ کار اور تنازع حل کرنے کے مقررہ نظام کے ذریعے مذاکرات کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کی پاسداری اور مذاکرات ہی خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیسعید احمد ے بہتر راستہ ہیں۔

editor

Related Articles