جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے ملک دشمن بیانات اور غداری پر مبنی ترجیحات قوم کے سامنے بے نقاب ہو چکی ہیں۔ سینئر صحافی عقیل یوسف زئی کے تہلکہ خیز انکشاف کے بعد عوام میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے جبکہ عوامی تنقید سے بچنے اور اپنے اس شرمناک چہرے پر پردہ ڈالنے کے لیے جے یو آئی (ف) کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک منظم اور انتہائی متنازع پروپیگنڈا مہم شروع کر دی گئی ہے۔
سینئر صحافی عقیل یوسف زئی کا تہلکہ خیز انکشاف
سینئر صحافی عقیل یوسفزئی کی جانب سے کیے گئے حالیہ انکشاف نے فضل الرحمان کی نام نہاد حب الوطنی کا پردہ چاک کر کے رکھ دیا ہے۔ عقیل یوسف زئی کے مطابق، مذکورہ سیاسی و مذہبی رہنما نے افغانستان کے سربراہ ہیبت اللہ سے گفتگو کے دوران بے شرمی سے یہ تسلیم کیا ہے کہ انہیں اپنے ملک پاکستان سے زیادہ افغانستان کے مفادات عزیز ہیں۔ اس غدارانہ بیان نے ثابت کر دیا ہے کہ ان کی ترجیحات میں پاکستان شامل نہیں ہے۔ سیاسی تجزیہ کار اسے ان کی منافقت کا منہ بولتا ثبوت قرار دے رہے ہیں۔ اس شرمناک اور ملک دشمن بیان کے منظرِ عام پر آنے کے بعد پورے ملک کے عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور شہری ان کے اس غداری کے مترادف بیان پر کڑے احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
اداروں کے خلاف زہر افشانی اور غداری کے بعد شدید بوکھلاہٹ
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ مولانا فضل الرحمان گزشتہ کئی ماہ سے مسلسل پاک فوج اور ملکی سلامتی کے اداروں کے خلاف زہر اگل رہے ہیں۔ صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اب جب ان کے اپنے کالے کرتوت اور ملک دشمنی عوام کے سامنے آ گئی ہے، تو حقائق کا سامنا کرنے اور قوم سے معافی مانگنے کے بجائے انہوں نے نیا محاذ کھول لیا ہے۔ فضل الرحمان کی ڈوبتی سیاست کو بچانے کے لیے جے یو آئی کی سوشل میڈیا بریگیڈ شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر طوفانِ بدتمیزی پر اتر آئی ہے۔
حقائق دبانے کے لیے جے یو آئی کے گھٹیا ہتھکنڈے
اپنے اس شرمناک فعل پر پردہ ڈالنے کے لیے اب جے یو آئی گھٹیا پروپیگنڈے اور گالی گلوچ کا سہارا لے رہی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر تنقید کو دبانے کے لیے منظم طریقے سے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ پر بے بنیاد ہیش ٹیگز ٹاپ ٹرینڈ کرائے جا رہے ہیں۔ اصل مدعے اور غداری سے عوام کا دھیان ہٹانے کے لیے #کالے_چینلز_فلاپ، #پیڈ_چمچے اور #ادارہ_یا_پروپیگنڈا_سیل جیسے ٹرینڈز چلوائے گئے ہیں۔ ان بھونڈے ہتھکنڈوں کا واضح مقصد تنقید کرنے والے صحافیوں اور باشعور عوام کی آواز کو دبانے کی ناکام کوشش کرنا ہے۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کی جانب سے سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی یہ بھونڈی مہم اب فضل الرحمان کی ڈوبتی ہوئی ساکھ کو بچانے میں قطعی طور پر ناکام دکھائی دیتی ہے۔ حقائق کو تسلیم کرنے کی بجائے’’الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے‘‘ کے مصداق یہ منظم پروپیگنڈا اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کے پاس اپنے دفاع میں کہنے کو کچھ نہیں بچا۔ قوم اب ان کے اس مکروہ چہرے کو پوری طرح پہچان چکی ہے اور جے یو آئی کا کوئی بھی سوشل میڈیا ہیش ٹیگ ان کے ان ملک دشمن بیانات پر پردہ نہیں ڈال سکتا۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ سیکیورٹی اور سرحدی معاملات کے تناظر میں کسی بھی پاکستانی سیاسی رہنما کا افغان حکومت کے حق میں ایسا بیان عوامی اور ریاستی سطح پر کھلی غداری اور انتہائی حساس نوعیت کا حامل ہے۔ مولانا فضل الرحمان حالیہ دنوں میں ریاستی اداروں پر کڑی تنقید اور ہرزہ سرائی کے باعث پہلے ہی عوام کے نشانے پر تھے۔ ایسے میں سینئر صحافی عقیل یوسفزئی کے اس مخصوص انکشاف نے فضل الرحمان کی وفاداریوں کا پول کھول دیا ہے، جس کی خفت مٹانے کے لیے جے یو آئی کی جانب سے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر تنقید کرنے والوں کے خلاف جوابی بیانیہ بنانے اور کیچڑ اچھالنے کی بھونڈی کوشش کی جا رہی ہے۔