ایئربس اے 380 بھی پیچھے رہ جائے گا؟ چین کے نئے طیارے نے دنیا کو چونکا دیا

ایئربس اے 380 بھی پیچھے رہ جائے گا؟ چین کے نئے طیارے نے دنیا کو چونکا دیا

چین نے ہوا بازی کے شعبے میں ایک غیر معمولی اور بڑے منصوبے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت 800 مسافروں کی گنجائش رکھنے والا ایک دیوہیکل مسافر طیارہ تیار کرنے کا منصوبہ زیر غور ہے۔ مجوزہ طیارہ حجم اور مسافروں کی گنجائش کے اعتبار سے موجودہ بڑے مسافر طیاروں سے کہیں آگے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

فراہم کردہ معلومات کے مطابق چین کی جانب سے تیار کیے جانے والے اس طیارے کے پروں کا پھیلاؤ تقریباً 230 فٹ ہوگا۔ اس کا وِنگ اسپین امریکی بی ٹو اسپرٹ اسٹیلتھ بمبار کے مقابلے میں تقریباً 1.6 گنا زیادہ بتایا گیا ہے۔

اس منصوبے کی ایک اہم خصوصیت طیارے کا منفرد ڈیزائن ہے۔ عام مسافر طیاروں میں ایک لمبا اور نسبتاً تنگ دھڑ ہوتا ہے جس کے دونوں جانب پر نصب کیے جاتے ہیں تاہم مجوزہ چینی طیارے میں اس روایتی ساخت کو تبدیل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

طیارے میں وسیع فلائنگ وِنگ ساخت استعمال کی جائے گی جس میں طیارے کا دھڑ اور پروں کا ڈیزائن ایک مربوط شکل اختیار کرتا ہے۔ یہ ساخت دور سے ایک بڑے پرندے کے پھیلے ہوئے پروں جیسی دکھائی دے سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : بھارتی پراپیگنڈا ناکام، چینی شینیانگ J-35 جنگی طیارہ حادثے کی خبریں جھوٹ ثابت  

مسافروں کی گنجائش بھی اس منصوبے کو غیر معمولی بناتی ہے۔ مجوزہ طیارے میں تقریباً 800 مسافروں کو بٹھانے کی گنجائش ہوگی۔ یہ تعداد موجودہ دنیا کے سب سے بڑے مسافر طیاروں میں شمار ہونے والے ایئربس اے 380 کی عمومی مسافر گنجائش سے بھی زیادہ ہے۔ ایئربس اے 380 میں عام ترتیب کے تحت تقریباً 555 مسافر سفر کرسکتے ہیں۔

اس طرح اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو مسافروں کی گنجائش کے اعتبار سے یہ طیارہ موجودہ بڑے مسافر طیاروں کے مقابلے میں ایک نمایاں پیش رفت ہوسکتا ہے۔

یہ منصوبہ چائنا ایروڈائنامکس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ سینٹر کی جانب سے تیار کیا جارہا ہے۔ یہ چین کا ایک قومی ادارہ ہے جو ہوا بازی اور طیاروں سے متعلق اہم تحقیقی اور ترقیاتی منصوبوں میں کردار ادا کرتا رہا ہے۔

چین کی ہوا بازی کی صنعت پہلے ہی بڑے منصوبوں پر کام کررہی ہے اور چینی ادارے مسافر اور فوجی طیاروں کی تیاری کے مختلف پروگراموں میں اہم کردار ادا کرچکے ہیں۔ چائنا ایروڈائنامکس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ سینٹر بھی سی 919 مسافر طیارے اور وائے 20 فوجی ٹرانسپورٹ طیارے سے متعلق ترقیاتی کاموں میں مرکزی کردار ادا کرچکا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :چین کے جدید لڑاکا طیارہے جے-20کی پہلی بار تسوشیما آبنائے میں رونمائی، امریکا، جاپان اور جنوبی کوریا خاموش

ماہرین کے لیے فلائنگ وِنگ ڈیزائن خاص دلچسپی رکھتا ہے کیونکہ اس میں طیارے کے دھڑ اور پروں کو ایک ہی مربوط ساخت میں ڈھالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس نوعیت کے ڈیزائن میں فضائی مزاحمت کم کرنے اور طیارے کی مجموعی کارکردگی بہتر بنانے کے امکانات پر تحقیق کی جاتی رہی ہے۔

تاہم 800 مسافروں کی گنجائش اور 230 فٹ وِنگ اسپین رکھنے والے طیارے کی تیاری ایک انتہائی پیچیدہ انجینئرنگ منصوبہ ہوگا۔ اس میں ساختی مضبوطی، مسافروں کی حفاظت، پرواز کے دوران توازن اور بڑے پیمانے پر طیارے کو چلانے سمیت کئی تکنیکی پہلو اہم ہوں گے۔

چین کی جانب سے اس منصوبے کا سامنے آنا عالمی ہوا بازی کی صنعت میں اس کی بڑھتی ہوئی تکنیکی صلاحیتوں کی جانب اشارہ سمجھا جارہا ہے۔ اگر یہ تصور عملی طیارے کی شکل اختیار کرتا ہے تو مستقبل میں بڑے مسافر طیاروں کے ڈیزائن اور گنجائش کے حوالے سے موجودہ تصورات کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

editor

Related Articles