سندھ اسمبلی نے ملک میں نئے صوبوں اور نئے انتظامی یونٹس کی مجوزہ تشکیل کے معاملے پر بحث کے لیے تحریک التوا اکثریت رائے سے منظور کرلی ہے۔ تحریک کی منظوری کے بعد سندھ اسمبلی میں اس معاملے پر باقاعدہ بحث پیر کے روز شروع ہوگی۔
سندھ اسمبلی کا اجلاس شروع ہوتے ہی پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر نثار احمد کھوڑو نے اسپیکر سے درخواست کی کہ وہ ایک اہم عوامی معاملے پر فوری بحث کے لیے تحریک التوا پیش کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے درخواست کی کہ ایوان کی معمول کی کارروائی معطل کرکے انہیں تحریک پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔
اسپیکر اویس قادر شاہ نے وزیر قانون و پارلیمانی امور ضیاء الحسن لنجار سے اس معاملے پر مشاورت کی۔ صوبائی وزیر نے تحریک پیش کیے جانے پر کوئی اعتراض نہیں کیا اور اسے اہم معاملہ قرار دیتے ہوئے بحث کی اجازت دینے کی حمایت کی۔
بعد ازاں اسپیکر اویس قادر شاہ نے تحریک التوا کو بحث کے لیے منظور کرلیا۔ انہوں نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ نئے صوبوں اور نئے انتظامی یونٹس کی مجوزہ تشکیل کے معاملے پر پیر کے روز ایوان میں دو گھنٹے بحث کی جائے گی۔
اسپیکر نے یہ بھی کہا کہ اگر ارکان اسمبلی چاہیں تو اس معاملے پر مزید کئی روز تک بحث جاری رکھی جاسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ارکان کو اس اہم معاملے پر اپنی آرا پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔
ایوان نے تحریک التوا کو اکثریت رائے سے بحث کے لیے منظور کیا۔ اس فیصلے کے بعد پیر کو سندھ اسمبلی کے اجلاس میں نئے صوبوں کے قیام اور نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل کے معاملے پر تفصیلی بحث کا آغاز ہوگا۔
نئے صوبوں کی تشکیل کا معاملہ ملک میں ایک اہم انتظامی اور سیاسی موضوع کے طور پر سامنے آتا رہا ہے۔ سندھ اسمبلی میں اس معاملے پر بحث کے دوران ارکان کی جانب سے مختلف آرا اور تجاویز پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
تحریک التوا کی منظوری کے بعد سندھ اسمبلی کا اجلاس پیر کی دوپہر دو بجے تک ملتوی کردیا گیا۔ پیر کے اجلاس میں اس معاملے پر مقررہ وقت کے دوران ارکان اظہار خیال کریں گے۔
سندھ اسمبلی میں تحریک التوا کی منظوری اس لحاظ سے اہم ہے کہ اب نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کی مجوزہ تشکیل پر ایوان کے اندر باضابطہ بحث ہوگی۔ تاہم اس بحث کے نتیجے میں کسی نئے صوبے یا انتظامی یونٹ کے قیام کا فیصلہ نہیں ہوا بلکہ فی الحال معاملہ بحث کے مرحلے میں داخل ہوا ہے۔
پیر کے اجلاس میں ہونے والی بحث کے دوران ارکان اسمبلی کی جانب سے پیش کی جانے والی تجاویز اور مؤقف سامنے آنے کے بعد معاملے کی مزید سیاسی اور انتظامی سمت واضح ہونے کی توقع ہے۔