ایران نے امریکا کی جانب سے عائد کی جانے والی نئی اقتصادی پابندیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ریاستی دہشتگردی اور انسانیت کے خلاف جرم قرار دے دیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق امریکا کی جانب سے عائد نئی پابندیوں میں کسی بھی طرح کی شرکت غیر قانونی امریکی اقدامات میں معاونت کے مترادف ہوگی۔ وزارت نے دیگر ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ ان پابندیوں کو تسلیم نہ کریں اور ایران کے خلاف امریکی اقدامات کا حصہ بننے سے گریز کریں۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ نئی اقتصادی پابندیوں کے اثرات صرف حکومت یا مخصوص اداروں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ان کے نتیجے میں عام شہری بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔ وزارت خارجہ کے مطابق پابندیوں سے لاکھوں ایرانی شہریوں کی صحت اور روزگار کے لیے سنگین خطرات پیدا ہوسکتے ہیں۔
تہران کی جانب سے یہ ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان پہلے ہی شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔ ایرانی حکام نے امریکی پابندیوں کو ملک پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے اقدامات ایرانی عوام کے لیے مشکلات میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے بھی ملک میں قومی اتحاد اور سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے ایرانی حکام کو ایسے بیانات اور سرگرمیوں سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے جو عوامی حوصلے کو کمزور یا معاشرتی یکجہتی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ موجودہ دباؤ اور مشکلات کے باوجود ملک کو داخلی صلاحیتوں پر اعتماد برقرار رکھنا ہوگا۔ ان کے مطابق ایران ڈالر پر انحصار کم کرنے کی کوشش کرے گا اور قومی اتحاد کے ذریعے دشمن کے بیانیے کا مقابلہ کیا جائے گا۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے ایرانی حکومت کی جانب سے بنیادی ضروریات کی فراہمی اور ملک کے اقتصادی معاملات کو بہتر بنانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر بھی زور دیا۔ انہوں نے مہنگائی اور بے روزگاری سے نمٹنے اور ملکی پیداوار کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
ایرانی قیادت کے مطابق موجودہ حالات میں قومی یکجہتی برقرار رکھنا انتہائی اہم ہے۔ ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ بیرونی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے ملک کے اندر سیاسی اور سماجی ہم آہنگی کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکا کی جانب سے عائد پابندیوں کے حوالے سے آزادانہ مؤقف اختیار کرے۔ وزارت کے مطابق کسی ملک یا ادارے کا ان پابندیوں پر عمل درآمد کرنا ایرانی عوام کے لیے مشکلات میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔
تہران نے واضح کیا ہے کہ وہ امریکی اقتصادی دباؤ کے باوجود اپنی معاشی سرگرمیاں جاری رکھنے اور ملکی وسائل پر انحصار بڑھانے کی پالیسی پر عمل کرے گا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کو موجودہ مشکلات سے نکلنے کے لیے اقتصادی نظم و نسق بہتر بنانے اور داخلی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان پابندیوں کے معاملے پر جاری کشیدگی کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید تناؤ پیدا ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔ تاہم ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ امریکی دباؤ کے باوجود ایران اپنے معاشی اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے اقدامات جاری رکھے گا۔