مولانا فضل الرحمٰن کے حوالے سے سینئر تجزیہ کار عقیل یوسفزئی کی جانب سے سامنے آنے والے انکشافات پر بھکر اور چنیوٹ کے شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن سے وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔
بھکر میں ’’آزاد ڈیجیٹل‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے ایک شہری نے کہا کہ عقیل یوسفزئی ایک سینئر تجزیہ کار ہیں، جنہوں نے مبینہ طور پر باقاعدہ نام لے کر مولانا فضل الرحمٰن کے بارے میں کہا ہے کہ ان کے مفادات افغانستان کے ساتھ وابستہ ہیں۔
شہری کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن قومی سطح کی اہم سیاسی شخصیت ہیں، اس لیے اگر ان کے بارے میں عقیل یوسفزئی کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات درست ہیں تو مولانا فضل الرحمٰن کو اس معاملے پر اپنی وضاحت پیش کرنی چاہیے۔
ایک اور شہری نے دہشت گردوں کی حمایت سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر عقیل یوسفزئی کی جانب سے لگائے گئے انکشافات اسی نوعیت کے ہیں تو یہ انتہائی تشویشناک معاملہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آخر فضل الرحمن افواج پاکستان کے خلاف زہر کیوں اگل رہے ہیں ؟ خیبر پختونخوا کے چوٹی کے تحقیقاتی صحافی عقیل یوسفزئی بہت بڑی خبر لے آئے
انہوں نے کہا کہ پاکستان ان کے لیے انتہائی اہم اور عزیز ملک ہے اور مکہ و مدینہ کے بعد پاکستان سے بڑھ کر کوئی سرزمین عزیز نہیں۔
🚨سینئر صحافی عقیل یوسفزئی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کی سیاست میں پاکستان کے بجائے افغانستان کے مفادات کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے اس حوالے سے بھکر کے شہرویوں کا تشویش کا اظہار۔۔@iaqeelyousafzai pic.twitter.com/NYgM8MEARQ
— Azaad Urdu (@azaad_urdu) August 28, 2026
دوسری جانب چنیوٹ کے شہریوں نے بھی مولانا فضل الرحمٰن کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن کو افغانستان کی حمایت کے بجائے پاکستان اور پاک فوج کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔
گلگت کے شہریوں نے ’’آزاد ڈیجیٹل ‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فضل الرحمان کے والد کا بیک گراونڈ دیکھ لیں توسمجھ آجائے گی کہ یہ کن کے خیرخواہ ہیں انکو افغانستان کے بجائے پاک آرمی کی حمایت کرنی چاہیے پاکستان کی قدر کرنی چاہیے۔
🚨فضل الرحمان کے والد کا بیک گراونڈ دیکھ لیں توسمجھ آجائے گی کہ یہ کن کے خیرخواہ ہیں انکو افغانستان کے بجائے پاک آرمی کی حمایت کرنی چاہیے پاکستان کی قدر کرنی چاہیے، گلگت کے شہریوں کی رائے۔۔۔ pic.twitter.com/wsFQoy0fXz
— Azaad Urdu (@azaad_urdu) August 28, 2026


