اس اہم اقدام کا بنیادی مقصد تعطل کا شکار سفارتی عمل کو بحال کرنا اور مہینوں سے جاری اس تباہ کن جنگ کا مستقل حل تلاش کرنا ہے۔
ایرانی مؤقف
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس بریفنگ کے دوران تصدیق کی ہے کہ تہران کو ثالثوں (پاکستان اور قطر) کی جانب سے تجاویز موصول ہو چکی ہیں، جن کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ ایران خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ہر سفارتی کوشش کا خیرمقدم کرتا ہے، تاہم اس مرحلے پر ان تجاویز کی مزید تفصیلات عام نہیں کی جا سکتیں۔
امریکا کا ردِعمل
دوسری جانب امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بھی ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ ‘ٹرمپ انتظامیہ سفارتی حل کے لیے مکمل طور پر آمادہ ہے’۔
انہوں نے بتایا کہ ایران کے ساتھ بات چیت کے مثبت اشارے ملے ہیں اور یہ مذاکرات براہِ راست یا بالواسطہ طریقوں سے آگے بڑھ سکتے ہیں۔
خطے میں امن کے امکانات
میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین (امریکا اور ایران) کی طرف سے اس تجویز پر مثبت ردِعمل کی قوی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔
اگر اس تجویز پر پیش رفت ہوتی ہے تو اگلے مرحلے میں ’جنوبی لبنان‘ اور ’غزہ‘ میں بھی جنگ بندی کے لیے بات چیت کا دائرہ کار آگے بڑھایا جائے گا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل 17 جون کو بھی پاکستان کی کامیاب ثالثی میں فریقین کے درمیان ایک اہم معاہدہ طے پایا تھا، تاہم گزشتہ ہفتے 9 جولائی کو آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر ہونے والے حملوں نے اس عمل کو شدید نقصان پہنچایا۔
ان حملوں کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی بندرگاہوں کی سخت ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے ایرانی تیل پر پابندیاں دوبارہ عائد کر دیں اور سابقہ معاہدے کو منسوخ کر دیا۔
اس اقدام کے باعث خطے میں تناؤ اور عسکری ٹکراؤ انتہائی تشویشناک حد تک بڑھ گیا تھا، جس کے بعد پاکستان اور قطر نے ایک بار پھر بحران کو ٹالنے کے لیے مشترکہ میدان سنبھالا ہے۔
پاکستان اور قطر کی یہ مشترکہ پیش رفت مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک انتہائی بروقت اور کلیدی موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔
2 ہفتوں کی عارضی جنگ بندی فریقین کو جذباتی فیصلوں سے نکل کر دوبارہ میزِ مذاکرات پر لانے کے لیے ایک بہترین ’سفارتی ونڈو‘ فراہم کرتی ہے۔
اگر امریکا اور ایران 9 جولائی سے پہلے کی صورتحال پر واپس جانے پر رضامند ہو جاتے ہیں تو اس سے نہ صرف آبنائے ہرمز میں تجارتی بحران ٹل جائے گا بلکہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں پھیلا ہوا اضطراب بھی کم ہوگا۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس فارمولے کی کامیابی کا براہِ راست اثر جنوبی لبنان اور غزہ میں بھی جنگ بندی کی راہ ہموار کر سکتا ہے، جس سے پاکستان اور قطر خطے میں ‘اہم ترین امن ساز’ کے طور پر ابھریں گے۔