وزیراعظم شہباز شریف بشکیک روانہ، ایس سی او اجلاس میں شرکت، توانائی اور سرمایہ کاری پر اہم مذاکرات، سائیڈ لائن ملاقاتوں کا امکان

وزیراعظم شہباز شریف بشکیک روانہ، ایس سی او اجلاس میں شرکت، توانائی اور سرمایہ کاری پر اہم مذاکرات، سائیڈ لائن ملاقاتوں کا امکان

وزیراعظم محمد شہباز شریف شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے 3 روزہ سرکاری دورے پر کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک روانہ ہو گئے ہیں۔

اپنے اس اہم دورے کے دوران وہ عالمی و علاقائی امور پر پاکستان کا واضح اور دو ٹوک مؤقف پیش کرنے کے ساتھ ساتھ علاقائی رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں بھی کریں گے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف اپنے اس 3 روزہ دورے میں انتہائی مصروف دن گزاریں گے۔ وہ ‘ایس سی او’ کے مرکزی سربراہی اجلاس کے ساتھ ساتھ ‘ایس سی او پلس’ کے خصوصی اجلاس میں بھی شرکت کریں گے۔

وفاقی وزرا جام کمال خان، علیم خان اور عطا اللہ تارڑ بھی اس اہم سفارتی مشن میں وزیراعظم کے ہمراہ ہیں۔ ان اعلیٰ حکومتی شخصیات کی شمولیت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ حکومت اس دورے کے دوران تجارت، اطلاعات اور سرمایہ کاری کے حوالے سے ٹھوس پیش رفت کی خواہاں ہے۔

دوطرفہ ملاقاتیں اور مستقبل کا لائحہ عمل

اجلاس کے موقع پر وزیراعظم کی مختلف ممالک کے رہنماؤں سے سائیڈ لائن دوطرفہ ملاقاتیں بھی شیڈول ہیں۔ ان اہم ترین ملاقاتوں میں علاقائی تعاون، باہمی دلچسپی کے امور، تجارت اور سرمایہ کاری پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے

وزیراعظم کرغزستان کے صدر ژاپاروف سے خصوصی دوطرفہ ملاقات کریں گے، جس میں پاک کرغز تعلقات کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا۔

تعاون کے نئے راستوں کی تلاش

اس سفارتی یاترا کے دوران دونوں ممالک کے مابین تجارت و سرمایہ کاری کے حجم کو بڑھانے پر سنجیدہ بات چیت ہوگی۔ اس کے علاوہ توانائی، علاقائی روابط، اعلیٰ تعلیم، سیاحت اور عوامی سطح پر روابط کے فروغ سمیت مختلف کلیدی شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے امکانات بھی زیرِ بحث آئیں گے تاکہ باہمی مفادات پر مبنی شراکت داری کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔

‘ورلڈ نومیڈ گیمز’ میں خصوصی شرکت

دورۂ کرغزستان کا ایک اور دلچسپ پہلو ثقافتی سفارت کاری ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف ‘ورلڈ نومیڈ گیمز’ کی پروقار افتتاحی تقریب میں بطور مہمان خصوصی مدعو کیے گئے ہیں۔ ان کی یہ شرکت خطے کے ممالک کے ساتھ پاکستان کے ثقافتی و دوستانہ تعلقات کی مضبوطی کا ایک واضح اشارہ ہے۔

شنگھائی تعاون تنظیم خطے کا ایک انتہائی اہم سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی اتحاد ہے، جس کا پاکستان 2017 میں مستقل رکن بنا تھا۔ وسط ایشیائی ریاستوں خصوصاً کرغزستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات ہمیشہ سے دوستانہ رہے ہیں، تاہم تجارتی حجم کو اس کی اصل صلاحیت کے مطابق بڑھانے کی ضرورت مسلسل محسوس کی جاتی رہی ہے۔

ماضی میں بھی ‘کاسا 1000’ جیسے توانائی کے بڑے منصوبوں پر پیش رفت ہوئی ہے، اور پاکستان گوادر اور کراچی کی بندرگاہوں کے ذریعے وسط ایشیا تک رسائی کے لیے ایک اہم ترین تجارتی راہداری بننے کا خواہشمند ہے۔

مزید پڑھیں:صدرمملکت سے کرغزستان کے ہم منصب کی ملاقات،مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پراتفاق

وزیراعظم کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے میں تیزی سے جیو پولیٹیکل تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ پاکستان کے لیے ‘ایس سی او’ کا پلیٹ فارم اس لیے بھی کلیدی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ یہ اسے روس، چین اور وسط ایشیائی ممالک کے ساتھ براہ راست اقتصادی روابط مضبوط کرنے کا منفرد موقع فراہم کرتا ہے۔

موجودہ معاشی چیلنجز کے تناظر میں، پاکستان کو نئی منڈیوں اور توانائی کے متبادل ذرائع کی اشد ضرورت ہے۔ کرغزستان کی قیادت سے براہ راست ملاقاتیں اور علاقائی روابط پر زور، دراصل اسلام آباد کی ‘وژن سینٹرل ایشیا’ پالیسی کا عملی تسلسل ہے۔

سفارتی محاذ پر یہ پیش قدمی ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان خطے میں تنہائی کے بجائے انضمام پر یقین رکھتا ہے۔ اگر اس دورے کے نتیجے میں توانائی اور تجارت کے حوالے سے کوئی ٹھوس روڈ میپ طے پا جاتا ہے، تو یہ پاکستان کی معاشی بحالی اور خطے کے مجموعی استحکام کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔

Related Articles