برازیل میں پائی جانے والی نیلور نسل کی ایک گائے نے اپنی غیر معمولی قیمت کے باعث دنیا بھر میں لوگوں کی توجہ حاصل کرلی ہے۔ اس گائے کی مالیت لاکھوں ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جو عام مویشیوں کی قیمت کے مقابلے میں ناقابل یقین حد تک زیادہ ہے۔
اس گائے کا نام ویاٹینا 19 ہے اور اس کا تعلق نیلور نسل سے ہے۔ یہ نسل بنیادی طور پر گوشت کی پیداوار اور اعلیٰ جینیاتی خصوصیات کے لیے مشہور ہے۔ برازیل میں نیلور مویشیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور یہ نسل گرم موسم میں بہتر طور پر زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ویاٹینا 19 کی غیر معمولی قیمت صرف اس کے جسمانی حجم کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کی جینیاتی صلاحیت کی وجہ سے ہے۔ مویشیوں کی اعلیٰ نسلوں کی دنیا میں بعض جانوروں کی اصل قیمت ان سے پیدا ہونے والی اگلی نسل میں چھپی ہوتی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ویاٹینا 19 کی ایک تہائی ملکیت تقریباً 1.44 ملین ڈالر میں فروخت ہوئی، جبکہ اس سے پہلے بھی اس کی ملکیت کے حصے لاکھوں ڈالر میں فروخت ہوچکے تھے۔ ان لین دین کی مجموعی قدر نے اس گائے کی مالیت تقریباً 4.3 سے 4.8 ملین ڈالر تک پہنچا دی۔
صرف گائے نہیں، قیمتی جینیاتی سرمایہ
ماہرین کے مطابق اعلیٰ نسل کے مویشیوں کی قیمت دودھ یا گوشت کی مقدار سے کہیں زیادہ عوامل پر منحصر ہوتی ہے۔ ان میں نسل، جسمانی ساخت، صحت، افزائش نسل کی صلاحیت، جینیاتی خصوصیات اور اس جانور سے مستقبل میں حاصل ہونے والی نسل کی قدر شامل ہوتی ہے۔
ویاٹینا 19کی سب سے بڑی خصوصیت بھی یہی ہے۔ اس سے حاصل ہونے والے ایمبریوز اور جینیاتی مواد کو اعلیٰ نسل کے مویشی پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اسی وجہ سے خریدار اس جانور کو صرف ایک گائے نہیں بلکہ ایک ایسے جینیاتی اثاثے کے طور پر دیکھتے ہیں جس سے مستقبل میں مزید قیمتی مویشی پیدا کیے جاسکتے ہیں۔
نیلور نسل کی خاص بات کیا ہے؟
نیلور نسل کا تعلق بھارت کے اونگول مویشیوں سے ہے، لیکن برازیل میں اس نسل کو بڑے پیمانے پر ترقی دی گئی۔ یہ مویشی گرم موسم، کیڑوں اور سخت ماحولیاتی حالات برداشت کرنے کی بہتر صلاحیت رکھتے ہیں۔
ان کا سفید رنگ سورج کی روشنی کو زیادہ منعکس کرنے میں مدد دیتا ہے، جبکہ ان کی جلد اور جسمانی ساخت گرم علاقوں میں پرورش کے لیے موزوں سمجھی جاتی ہے۔ یہی خصوصیات برازیل جیسے گرم ملک میں اس نسل کو انتہائی اہم بناتی ہیں۔
قیمت اتنی زیادہ کیوں؟
عام آدمی کے لیے یہ سوال فطری ہے کہ ایک گائے کی قیمت کئی ملین ڈالر کیسے ہوسکتی ہے؟ اس کا جواب جینیات اور افزائش نسل میں ہے۔ اگر کسی جانور میں ایسی جینیاتی خصوصیات موجود ہوں جو صحت مند، مضبوط اور بہتر نسل کے سینکڑوں یا ہزاروں مویشی پیدا کرنے میں مدد دے سکتی ہیں تو اس جانور کی قیمت بہت بڑھ جاتی ہے۔
یعنی خریدار صرف ایک جانور نہیں خریدتا، بلکہ اس جانور سے حاصل ہونے والی مستقبل کی نسل میں سرمایہ کاری کرتا ہے۔ اسی وجہ سے دنیا میں اعلیٰ نسل کے مویشیوں کے ایمبریوز اور تولیدی مواد بھی انتہائی مہنگے داموں فروخت ہوتے ہیں۔ ویاٹینا 19 کی کہانی بھی اسی بدلتی ہوئی مویشی منڈی کی مثال ہے۔
کیا واقعی یہ دنیا کی 5 ملین ڈالر کی گائے ہے؟
سوشل میڈیا پر اسے اکثر 5 ملین ڈالر کی دنیا کی مہنگی ترین گائے کہا جارہا ہے، تاہم دستیاب ریکارڈ میں رقم تقریباً 4.8 ملین ڈالر تک بتائی گئی ہے۔ اس لیے 5 ملین ڈالر کا عدد ایک قریب ترین اندازہ سمجھنا زیادہ درست ہوگا، نہ کہ لازماً ایک ہی بار ادا کی گئی قیمت۔
یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ جدید مویشی پالنے کی صنعت میں کسی جانور کی قیمت صرف اس کے وزن یا ظاہری خوبصورتی سے نہیں لگائی جاتی۔ بعض اوقات اس کی اصل قیمت اس کے جینز، نسل اور آنے والی نسلوں میں منتقل ہونے والی خصوصیات میں چھپی ہوتی ہے۔


