نیپال ، تبت میں سیلاب کے بعد امدادی کارروائیاں تیز ، ہلاکتیں 900 سے تجاوز کرگئیں

نیپال ، تبت میں سیلاب کے بعد امدادی کارروائیاں تیز ، ہلاکتیں 900 سے تجاوز کرگئیں

نیپال میں آنے والے تباہ کن فلیش فلڈ کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 919 سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ 4 ہزار کے قریب افراد اب بھی لاپتا ہیں تاہم ریسکیو آپریشن تیز کردیا گیا ہے۔

نیپالی حکام کے مطابق نیپال میں ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے 6 مقامات پر 933 کارکن پھنسے ہوئے ہیں، سرنگوں میں پھنسے ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کے کارکنوں کو نکالنے کی کوششیں جاری ہیں۔

دوسری جانب نیپالی وزارتِ تعلیم کا کہنا ہے کہ سیلاب کے بعد تعلیمی اداروں کے 200 سے زائد طلبہ لاپتہ ہیں۔

نیپالی حکام کے مطابق کئی لاشیں سیلابی ریلے میں بہہ کر متاثرہ علاقے سے تقریباً 100 کلو میٹر دور میدانی علاقوں سے ملیں، جبکہ مزید لاشیں ملنے کا خدشہ ہے۔

سیلاب سے اسکولوں، اسپتالوں، پن بجلی گھروں، سڑکوں، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

نیپالی وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ ملک کو عمومی سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں غیر ملکی مدد کی ضرورت نہیں، تاہم ٹنلز میں پھنسے افراد کو نکالنے، خصوصی تکنیکی امداد، ٹرانسپورٹ اور لاشوں کو محفوظ رکھنے اور ان کی شناخت کے لیے بیرونی تعاون درکار ہے۔

امریکی جیولوجیکل سروے اور مقامی حکام کا کہنا ہے کہ تباہ کن سیلاب ممکنہ طور پر ایک گلیشیئر کے ٹوٹنے کے باعث آیا تھا جبکہ یڈ کراس کے اندازے کے مطابق نیپال میں سیلاب سے تقریباً 93 ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں۔۔

یہ بھی پڑھیں :نیپال میں تباہ کن سیلاب سے اموات 700 سے متجاوز، 2400 سے زائد افراد لاپتہ

حکام کے مطابق کئی خاندان اب بھی اپنے پیاروں کی واپسی کے منتظر ہیں، جبکہ سرحدی علاقوں میں پھنسے افراد تک رسائی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے جبکہ امدادی کارروائیوں کے لیے 18,700 سے زیادہ ریسکیو اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

چین کے زیر انتظام تبت کے علاقے میں سرکاری طور پر 16 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 546 افراد لاپتا ہیں،  ان میں سے تقریباً نصف غیرملکی شہری بتائے جاتے ہیں،  شگاتسے میں امدادی ٹیموں کو اب تک کسی شخص کو زندہ تلاش کرنے میں کامیابی نہیں مل سکی، جس سے متاثرہ علاقوں میں انسانی المیے کی شدت کا اندازہ ہوتا ہے۔

فلیش فلڈ سے تباہی

ہمالیائی سرحدی علاقے میں گلیشیئر کا ایک حصہ گرنے کے بعد کیچڑ اور ملبے کا بڑا ریلا دریاؤں میں پھیل گیا، جس کے نتیجے میں سیلابی صورتحال نے شدت اختیار کی، پانی کے تیز بہاؤ نے آبادیوں، سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا۔

نیپالی حکام کے مطابق سیلابی ریلے میں بہنے والی بعض لاشیں متاثرہ علاقے سے تقریباً 100 کلومیٹر دور میدانی علاقوں سے برآمد ہوئی ہیں، حکام کو خدشہ ہے کہ تلاش کا دائرہ بڑھنے کے ساتھ مزید لاشیں بھی مل سکتی ہیں۔

زرد بارش کی پیشگوئی

نیپال کے محکمہ ہائیڈرولوجی اینڈ میٹرولوجی نے علاقے میں کم از کم آج تک زرد بارش کی وارننگ جاری کی ہے، شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ موسم اور مقامی صورتحال سے متعلق تازہ اطلاعات پر نظر رکھیں۔

زرد وارننگ تین سطحی نظام میں سب سے نچلی سطح کی وارننگ ہے، جو نارنجی اور سرخ وارننگ سے کم شدت کی ہوتی ہے۔ تاہم، موجودہ حالات میں مزید بارش جاری رہنے سے تلاش اور امدادی سرگرمیوں کے لیے مشکلات برقرار رہنے کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھیں :نیپال کا تباہ کن سیلاب، ’گلوف‘ کیا ہے اور یہ کیسے آتا ہے؟

سیلاب کے بعد بننے والی ایک جھیل بھی تشویش کا باعث بنی تھی، کیونکہ اس کے لبریز ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا تاہم اب اس جھیل میں پانی کی سطح کم ہونا شروع ہوگئی ہے۔

دوسری جانب سانحہ نیپال میں گلیشیئر سے برف ٹوٹ کر گرنے کی ویڈیو سامنے آگئی۔ گلیشیئر کا انتہائی بڑا ٹکڑا ہزاروں میٹر نیچے جا کر جھیل میں گرا جس سے برفانی پانی کی وہ لہر پیدا ہوئی جس میں پہاڑی پتھر، درخت، مٹی نے مل کر اسے طوفانی سیلاب میں تبدیل کردیا۔

نیپال اور تبت میں جاری تباہی کے بعد امدادی ادارے لاپتا افراد کی تلاش، زخمیوں کی مدد اور متاثرہ علاقوں میں ضروری سامان پہنچانے کے لیے سرگرم ہیں۔

editor

Related Articles