کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں 31 اگست سے 6 ستمبر تک منعقد ہونے والی ‘چھٹی ورلڈ نومیڈ گیمز 2026’ میں شرکت کے لیے پاکستانی دستے کی روانگی سے قبل لاہور میں ایک باوقار تقریب کا انعقاد کیا گیا ہے۔
قومی دستہ 23 مختلف روایتی کھیلوں میں پاکستان کی نمائندگی کرے گا، جہاں کھلاڑی بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ زیادہ سے زیادہ تمغے جیتنے کے لیے پرعزم ہیں۔
پاکستان کے ثقافتی و اسپورٹس کے میدان میں ایک نئی روح پھونکنے والے اس سفر سے قبل، لاہور میں ایک پروقار الوداعی تقریب منعقد کی گئی۔
اس تقریب میں اعلیٰ حکام، کھیلوں کی دنیا سے وابستہ نامور شخصیات، معززینِ شہر اور پاکستانی کھلاڑیوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب محمد کامران خان تھے، جنہوں نے کھلاڑیوں سے ملاقات کی اور ان کے جذبے کو سراہا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی دستے کے سربراہ نواب فرقان خان نے کھلاڑیوں کی کڑی محنت اور تپتی تیاریوں پر روشنی ڈالی۔
ان کا کہنا تھا کہ قومی کھلاڑی ورلڈ نومیڈ گیمز میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور ہمارا ہدف ملک کے لیے زیادہ سے زیادہ تمغے جیتنا ہے۔
اس موقع پر پاکستان اسپورٹس بورڈ کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل اور دستے کے انتظامی سربراہ محمد شاہد نے بھی تمام کھلاڑیوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ قومی دستہ عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کرے گا۔
قدیم اور روایتی کھیلوں کا عالمی دنگل
ورلڈ نومیڈ گیمز کے اس چھٹے ایڈیشن میں دنیا بھر کے متعدد ممالک کے نامور کھلاڑی اور شہسوار اپنے اپنے فن کے جوہر دکھائیں گے۔ ان کھیلوں کے مقابلے گھڑ سواری، مختلف قسم کی روایتی و ثقافتی کشتی، تیر اندازی اور دیگر قدیم صحرائی و قبائلی کھیلوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔
پاکستانی کھلاڑیوں نے بھی ان تمام چیلنجنگ مقابلوں کے لیے کٹھن تربیت حاصل کی ہے اور وہ عالمی پلیٹ فارم پر اپنی ثقافت اور کھیل کا لوہا منوانے کے لیے بشکیک روانہ ہو رہے ہیں۔
ورلڈ نومیڈ گیمز کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں لیکن یہ عالمی اسپورٹس کے منظرنامے پر ایک منفرد حیثیت اختیار کر چکی ہے۔
2014 میں کرغزستان سے شروع ہونے والا یہ عالمی میلا بنیادی طور پر خانہ بدوش اور قدیم تہذیبوں کی ثقافت، روایتی کھیلوں اور طرزِ زندگی کو زندہ رکھنے کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔
عام المپک کھیلوں سے مختلف، ان گیمز میں وہ قدیم کھیل شامل ہوتے ہیں جو صدیوں سے مختلف قبائل اور صحرائی علاقوں میں کھیلے جاتے رہے ہیں۔
پاکستان نے بھی اپنے تاریخی و ثقافتی رشتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اور روایتی کھیلوں کو فروغ دینے کے لیے اس عالمی ایونٹ میں باقاعدگی سے شرکت کا سلسلہ قائم رکھا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر جہاں کرکٹ، فٹ بال اور ہاکی جیسے روایتی کھیلوں پر تمام تر توجہ مرکوز رہتی ہے، وہاں ‘ورلڈ نومیڈ گیمز’ میں پاکستان کی 23 مختلف کھیلوں میں شرکت ایک انتہائی مثبت اور خوش آئند پیش رفت ہے۔
یہ ایونٹ نہ صرف ہمارے کھلاڑیوں کو ایک بالکل منفرد اور بین الاقوامی پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے، بلکہ پاکستان کے اسپورٹس کلچر کو تنوع بھی بخشتا ہے۔
قومی کھلاڑیوں کا یہ جوش و جذبہ اور نواب فرقان خان کی قیادت میں پرعزم ٹیم اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر غیر روایتی کھیلوں کے کھلاڑیوں کو بھی مناسب سرپرستی اور سہولیات فراہم کی جائیں، تو وہ عالمی سطح پر حیران کن نتائج دے سکتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے مواقع کے بعد ان قدیم کھیلوں کو مقامی اور قومی سطح پر بھی گراس روٹ لیول تک فروغ دیا جائے تاکہ پاکستان کا اسپورٹس کا ڈھانچہ مزید مضبوط ہو سکے۔