‘پاکستان مسلم لیگ ن’ کی مرکزی قیادت نے آزاد جموں کشمیر کی عبوری کابینہ کے لیے ممکنہ وزرا اور مشیروں کے ناموں کی حتمی منظوری دے دی ہے۔
اس اہم سیاسی پیش رفت کے بعد ریاست میں عبوری حکومت کی تشکیل کا مرحلہ فیصلہ کن موڑ پر پہنچ گیا ہے، تاہم بقیہ حلقوں میں انتخابات مکمل ہونے کے بعد کابینہ میں مزید توسیع کی جا سکتی ہے۔
باخبر ذرائع کے حوالے سے یہ اہم خبر سامنے آئی ہے کہ ‘پاکستان مسلم لیگ ن’ کی اعلیٰ ترین قیادت نے آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے حوالے سے اپنے پتے شو کر دیے ہیں۔
طویل مشاورت کے بعد عبوری کابینہ میں شامل کیے جانے والے اراکین کے ناموں پر حتمی مہر ثبت کر دی گئی ہے، جس کے بعد کابینہ کی تشکیل محض باضابطہ اعلان کی منتظر ہے۔
ممکنہ وزرا اور قلمدانوں کی تقسیم
ریاستی امور کو چلانے کے لیے جن اہم شخصیات پر اعتماد کا اظہار کیا جا رہا ہے، ان میں ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر، راجہ ثاقب مجید، نورین عارف، مریم ادریس، چوہدری رخسار، چوہدری عبدالرزاق اور راجہ ریاست کے نام سرفہرست ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ان اراکین کو مختلف وزارتوں کا قلمدان سونپا جائے گا۔ مزید برآں حکومت کے دیگر اہم شعبہ جات کی ذمہ داریاں راجہ ایاز، اظہر صادق، سردار میر اکبر، وقار نور اور پیر مظہر سعید کے سپرد کیے جانے کا قوی امکان ہے۔ ان میں سے سحرش قمر کو بھی کابینہ کا باقاعدہ حصہ بنائے جانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
مشیروں کی تعیناتی اور اتحادیوں کی شمولیت
کابینہ میں وزرا کے علاوہ مشیروں کی تعیناتی کا خاکہ بھی تیار کر لیا گیا ہے۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ راجہ عثمان فاروق اور محسن عزیر کو بطور مشیر حکومت میں اہم ذمہ داریاں تفویض کی جائیں گی۔
سیاسی توازن برقرار رکھنے کے لیے ‘ن لیگ’ نے اپنے اتحادیوں کو بھی اقتدار میں حصہ دار بنانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت ساجد اقبال عباسی کو کوئی کلیدی عہدہ ملنے کا امکان ہے۔
انتخابات کے بعد کابینہ میں ممکنہ ردوبدل
سیاسی ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ یہ کابینہ عارضی نوعیت کی ہو سکتی ہے۔ آزاد کشمیر کے ان حلقوں میں جہاں ابھی انتخابات کا عمل مکمل ہونا باقی ہے، وہاں کے نتائج آنے کے بعد حکومت اس کابینہ میں ردوبدل یا توسیع پر غور کرے گی۔
تاہم وزرا کے قلمدانوں کا حتمی اور باضابطہ اعلان جلد ہی آزاد کشمیر کے وزیراعظم کی جانب سے کیا جائے گا۔
آزاد کشمیر کا سیاسی منظر نامہ حالیہ عرصے میں کافی ہنگامہ خیز اور تبدیلیوں کی زد میں رہا ہے۔ ایک مستحکم حکومت کا قیام اور موثر نظامِ کار ریاست کی سب سے بڑی ضرورت رہی ہے۔
‘مسلم لیگ ن’ بحیثیت ایک بڑی اور موثر سیاسی قوت، خطے میں سیاسی استحکام لانے اور انتظامی معاملات کو بہتر انداز میں چلانے کے لیے ایک متوازن عبوری کابینہ تشکیل دینے کی کوشش کر رہی ہے۔
ریاست کے موجودہ معاشی اور انتظامی چیلنجز کے پیشِ نظر ایک مضبوط اور تجربہ کار سیاسی ٹیم کا انتخاب نہایت اہمیت کا حامل رہا ہے۔
موجودہ فہرست کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ حکمران جماعت نے آزاد کشمیر میں اقتدار کی بساط پر انتہائی محتاط چال چلی ہے۔
پرانے اور تجربہ کار رہنماؤں کے ساتھ ساتھ اتحادیوں کو ساتھ ملا کر ایک وسیع البنیاد سیاسی ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
ساجد اقبال عباسی جیسے اتحادی رہنما کو شامل کرنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ جماعت ریاست میں کسی بھی قسم کی سیاسی تنہائی سے بچنا چاہتی ہے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلنے کی خواہاں ہے۔
تاہم اصل امتحان یہ ہوگا کہ کیا یہ عبوری کابینہ ریاست کے عوام کے دیرینہ مسائل حل کرنے میں کامیاب ہو پائے گی؟ بقیہ انتخابات کے بعد کابینہ میں متوقع ردوبدل اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ مستقبل کی سیاسی اور جغرافیائی ضروریات کے تحت اس میں تبدیلیاں ناگزیر ہوں گی۔
یہ اقدام سیاسی بصیرت کا تقاضا بھی ہے اور اقتدار کی شراکت داری کی ایک بہترین عملی مثال بھی، جو آنے والے دنوں میں آزاد کشمیر کی سیاست کا رخ متعین کرے گی۔