آج کے دور میں جب دن کا بڑا حصہ دفتر، گھر یا گاڑی میں بیٹھ کر گزارا جاتا ہے ایسے افراد کیلئے جسمانی سرگرمی کی کمی وزن بڑھنے کا باعث بنتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ وزن کم کرنے والی ادویات سے لے کر جم اور مختلف فٹنس مصنوعات تک، ہر طرف وزن گھٹانے کے طریقے تلاش کیے جا رہے ہیں۔
اسی دوران جاپان کی ایک مختصر ویڈیو نے سوشل میڈیا پر لوگوں کی توجہ حاصل کرلی ہے ، ویڈیو میں صرف 4 منٹ کی ایک آسان ورزش دکھائی گئی ہے اور دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اسے روزانہ کرنے سے ایک ہفتے میں 5 کلو تک وزن کم کیا جا سکتا ہے۔
تاہم سوال یہ ہے کہ کیا واقعی صرف چار منٹ کی ورزش اتنی تیزی سے وزن کم کر سکتی ہے؟ یہی وہ نکتہ ہے جس نے اس ویڈیو کو دلچسپی کا مرکز بنا دیا ہے۔
4 منٹ کی ورزش کا دعویٰ کیا ہے؟
وائرل ویڈیو میں لوگوں کو بھاری وزن اٹھانے یا ڈمبلز کے ساتھ سخت ورزش کرنے کے بجائے ایک مختصر ورزش کو روزمرہ معمول کا حصہ بنانے کا مشورہ دیا گیا ہے، اس ورزش کو روزانہ صرف چار منٹ کرنے سے وزن کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
اس ویڈیو میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ورزش کے کوئی مضر اثرات نہیں ہیں اور یہی سادگی شاید ویڈیو کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ بنی ، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو مصروف روٹین کے باعث جم جانے یا طویل ورزش کے لیے وقت نہیں نکال پاتے، چار منٹ کی ورزش کا خیال خاصا پرکشش محسوس ہوتا ہے۔
ویڈیو سوشل میڈیا پروائرل
یہ ویڈیو اب تک انٹرنیٹ پر بہت زیادہ دیکھی جا چکی ہے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس کے ری پوسٹ شدہ ورژن کو 30 لاکھ سے زائد لوگ دیکھ چکے ہیں جبکہ اسے تقریباً 60 ہزار لائیکس بھی مل چکے ہیں ، ویڈیو پر صارفین کی جانب سے مختلف قسم کے تبصرے اور خیالات کا اظہاربھی کیا جارہا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین نے اپنی اپنی رائے کا اظہار کیا جس میں ایک صارف کا کہنا تھا کہ آپ بغیر کسی دباؤ کے صرف چار منٹ میں اس کا آغاز کر سکتے ہیں لیکن اصل چیز مستقل مزاجی ہے، ہے نا؟
کچھ افراد نے اسے مختصر وقت میں ورزش شروع کرنے کا آسان طریقہ قرار دیا، جبکہ دوسروں نے اس بات پر زور دیا کہ اصل کامیابی مستقل مزاجی میں ہے۔
ایک صارف نے لکھا کہ صرف چار منٹ سے آغاز کیا جا سکتا ہے، لیکن اصل چیز اسے مسلسل جاری رکھنا ہے۔
ایک اور صارف کے مطابق کوئی بھی ورزش، کچھ نہ کرنے سے بہتر ہے، اگر یہ ویڈیو لوگوں کو کم از کم چار منٹ ورزش کرنے پر آمادہ کر رہی ہے تو یہ بھی ایک مثبت بات ہے۔
صارفین نے اسے آزمانے کا فیصلہ بھی کرلیا
سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے اس ورزش کو خود آزمانے میں دلچسپی ظاہر کی یہاں تک کہ ایک صارف نے کہا کہ وہ اسے ایک ہفتے تک آزما کر اپنے نتائج شیئر کریں گے تاہم اسی گفتگو میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ لوگوں کو اس طرح کی ورزش سے فوری یا غیر معمولی نتائج کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔
ایک دلچسپ تبصرے میں صارف نے کہا کہ یہ ورزش آج کل کے کئی پاپ گانوں سے بھی زیادہ طویل ہے، اس لیے کم از کم اسے آزمانے میں کوئی حرج نہیں۔
کیا 4 منٹ کی ورزش سے ایک ہفتے میں 5 کلو وزن کم ہوسکتا ہے؟
یہ اس وائرل دعوے کا سب سے اہم سوال ہے کہ کیا صرف چار منٹ کی ورزش سے ہر شخص کا ایک ہفتے میں پانچ کلو وزن کم ہونا ثابت شدہ حقیقت نہیں ، وزن کم ہونے کی رفتار مختلف افراد میں مختلف ہوتی ہے اور اس پر خوراک، جسمانی سرگرمی، عمر، جسمانی ساخت اور مجموعی صحت سمیت کئی عوامل اثر انداز ہوتے ہیں۔
اس لیے کسی ایک وائرل ویڈیو کے دعوے کو ہر شخص پر لاگو نہیں کیا جا سکتا ، مختصر ورزش یقیناً روزمرہ جسمانی سرگرمی بڑھانے کا ایک آسان طریقہ بن سکتی ہے، لیکن اسے تیزی سے وزن کم کرنے کا یقینی فارمولا سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
وزن کم کرنے میں مستقل مزاجی کیوں اہم ہے؟
وزن کم کرنے کی کوشش میں ایک دن یا ایک ہفتے کے نتائج کے بجائے طویل مدت کی عادات زیادہ اہم ہوتی ہیں ، باقاعدہ جسمانی سرگرمی کے ساتھ متوازن غذا اور مناسب طرزِ زندگی بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اسی لیے اگر کوئی شخص اس چار منٹ کی ورزش کو آزماتا ہے تو اسے فوری طور پر پانچ کلو وزن کم ہونے کی توقع رکھنے کے بجائے اسے اپنی روزمرہ جسمانی سرگرمی کا ایک چھوٹا حصہ سمجھنا چاہیے ، اس طرح کی مختصر ورزش ان لوگوں کے لیے آغاز کا ذریعہ ضرور بن سکتی ہے جو کافی عرصے سے ورزش نہیں کر رہے لیکن بہتر نتائج کے لیے جسمانی سرگرمی کو بتدریج بڑھانا اور اپنی غذا و طرزِ زندگی پر بھی توجہ دینا زیادہ مؤثر راستہ ہو سکتا ہے۔
وائرل دعووں پر آنکھیں بند کرکے یقین نہ کریں
سوشل میڈیا پر فٹنس اور وزن کم کرنے سے متعلق ویڈیوز چند گھنٹوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتی ہیں لیکن زیادہ ویوز یا لائیکس کسی طبی یا سائنسی دعوے کو خود بخود درست ثابت نہیں کرتے ، اس لیے 4 منٹ کی جاپانی ورزش بھی اگرچہ آسان اور دلچسپ معلوم ہوتی ہے، مگر ایک ہفتے میں 5 کلو وزن کم کرنے کے دعوے کو احتیاط کے ساتھ دیکھنا چاہیے۔