پاکستان کے وزیراعظم میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان امن، مکالمے اور کثیرالجہتی تعاون کا حامی ہے، پانی کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کرنا ناقابل قبول ہے، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زیادہ جانوں کی قربانیاں دیں، ایس سی او چیئرمین شپ میں توانائی، آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت پر توجہ دیں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان تنازعات کے حل کے لیے طاقت کے استعمال کے بجائے سفارتکاری اور مذاکرات کو بہترین راستہ سمجھتا ہے، موجودہ عالمی حالات محاذ آرائی کے بجائے مکالمے، تعاون اور باہمی احترام کے متقاضی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار اور پرامن ریاست کی حیثیت سے عالمی قوانین کی پاسداری اور کثیرالجہتی نظام کے استحکام پر یقین رکھتا ہے۔
شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان تنظیم کا فعال اور ذمہ دار رکن ہے، تاریخی اجلاس میں شرکت ان کے لیے باعث اعزاز ہے۔
ایس سی او عالمی امن، علاقائی استحکام اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ہے، جبکہ تنظیم کے قیام کے 25 سال مکمل ہونا بھی اہم سنگ میل ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے ایس سی او کے تحت علاقائی تعاون کے فروغ میں ہمیشہ مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے، جو علاقائی کشیدگی میں کمی اور باہمی تعاون کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت ہے۔ پاکستان بحرانوں کے دوران مذاکرات اور مفاہمت کے ذریعے مسائل کے حل کی پالیسی پر کاربند ہے۔
عالمی اداروں کو اعلانات سے آگے بڑھنا ہوگا
وزیراعظم نے کہا کہ عالمی برادری کو موجودہ بحرانوں سے نمٹنے کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ عالمی اداروں کو محض اعلانات اور قراردادوں تک محدود رہنے کے بجائے اپنے فیصلوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ مضبوط کثیرالجہتی نظام ہی عالمی امن، استحکام اور پائیدار ترقی کی بنیاد فراہم کرسکتا ہے۔
غزہ اور مغربی کنارے کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ فلسطینی علاقوں میں جاری انسانی بحران ناقابل تصور مصائب کا باعث بن رہا ہے۔
عالمی برادری کو فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کا احترام اور ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا بھی پائیدار امن کے بغیر اپنی مکمل معاشی اور سماجی صلاحیت بروئے کار نہیں لا سکتا۔
وزیراعظم نے کہا کہ ایس سی او خطے میں 3 ارب سے زیادہ افراد کی نمائندگی کرتی ہے، جس کے باعث تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، رابطہ کاری اور معاشی تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
پاکستان ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے اور خطے کے پائیدار امن کے لیے افغانستان میں استحکام کو بنیادی اہمیت دیتا ہے۔
‘مکہ معاہدہ’ اور ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ امن کوششیں ہیں
علاقائی سفارتکاری کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا ‘مکہ معاہدہ’ کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں بلکہ خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے ہے۔
انہوں نے امریکا اور ایران کے درمیان ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ کو بھی اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ سفارتی کوششیں کشیدگی کم کرنے اور پائیدار امن کی راہ ہموار کرسکتی ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ علاقائی اور عالمی بحرانوں کے دوران مذاکرات، مفاہمت اور پرامن حل کی حمایت کی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ عالمی صورتحال میں کسی بھی تنازع کو مزید پیچیدہ بنانے کے بجائے فریقین کو بات چیت کے ذریعے قابل قبول حل تلاش کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ علاقائی رابطہ کاری اب محض ترقیاتی ترجیح نہیں بلکہ اسٹرٹیجک ضرورت بن چکی ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) علاقائی معیشتوں کو بحیرہ عرب سے منسلک کرنے کی اہم صلاحیت رکھتی ہے، جبکہ پاکستان ریل، سڑک اور توانائی کے شعبوں میں علاقائی رابطوں کے منصوبوں کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔
پانی کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جاسکتا
آبی وسائل کے تحفظ پر وزیراعظم نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ پانی کو سیاسی مقاصد یا کسی ملک پر دباؤ ڈالنے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرنا ناقابل قبول ہے۔
انہوں نے پانی کو خطے کی زندگی اور آنے والی نسلوں کے مستقبل سے منسلک بنیادی وسیلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی معاہدوں پر ان کی روح اور طے شدہ شرائط کے مطابق مکمل عملدرآمد ضروری ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اور پانی کے وسائل سے متعلق تنازعات خطے کے لیے سنگین چیلنج بن چکے ہیں۔ آبی معاملات کو سیاسی کشیدگی کا ذریعہ بنانے کے بجائے بین الاقوامی قوانین اور موجودہ معاہدوں کے تحت حل کیا جانا چاہیے۔
قومی سلامتی اور دہشتگردی کے معاملے پر شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے پوری طرح پرعزم ہے اور دہشتگرد عناصر کو افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
انہوں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک نے 90 ہزار سے زیادہ جانوں کی قربانیاں دی ہیں جبکہ دہشتگردی کے باعث پاکستان کو 150 ارب ڈالر سے زیادہ کا معاشی نقصان اٹھانا پڑا۔
علاقائی ترقی کے لیے ایس سی او کی ترقیاتی حکمت عملی 2035 پر عملدرآمد ضروری
وزیراعظم نے ایس سی او کی ترقیاتی حکمت عملی 2035 پر مؤثر عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تنظیم کے ترقیاتی بینک کا قیام رکن ممالک کے درمیان معاشی تعاون کو نئی سمت دے سکتا ہے۔ پاکستان غربت کے خاتمے، معاشی مواقع میں اضافے اور سماجی تحفظ کے فروغ کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایس سی او کے رکن ممالک کے درمیان اقتصادی روابط بڑھانے سے خطے میں تجارت، سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جاسکتے ہیں۔ علاقائی رابطہ کاری کو مؤثر بنا کر رکن ممالک اپنی جغرافیائی اور معاشی صلاحیتوں سے زیادہ بہتر انداز میں فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی ایس سی او چیئرمین شپ کے دوران توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، صحت، ثقافت اور کھیل سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو ترجیح دی جائے گی۔ پاکستان تنظیم کے پلیٹ فارم کو محض سیاسی رابطے تک محدود رکھنے کے بجائے عملی اور عوامی مفاد کے منصوبوں کے لیے استعمال کرنے کا خواہاں ہے۔
مصنوعی ذہانت کے لیے علاقائی گورننس فریم ورک کی تجویز
وزیراعظم نے بتایا کہ پاکستان ایس سی او کے رکن ممالک کے درمیان مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور اس کے ذمہ دارانہ استعمال کے لیے گورننس فریم ورک کی تشکیل کی تجویز پیش کرے گا۔ ان کے مطابق ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل معیشت اور جدید انفراسٹرکچر میں تعاون مستقبل کی علاقائی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ موجودہ عالمی منظرنامہ امن، سفارتکاری اور مشترکہ اقدامات کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔ مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال، افغانستان میں امن و استحکام، جنوبی ایشیا کے مسائل اور عالمی اقتصادی چیلنجز ایسے معاملات ہیں جن کا حل مشترکہ کوششوں اور مؤثر سفارتکاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
وزیراعظم کے خطاب کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ پاکستان محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات، بقائے باہمی، اقتصادی تعاون اور علاقائی رابطہ کاری کو ترجیح دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایس سی او کے پلیٹ فارم کو امن، استحکام، ترقی اور عوامی خوشحالی کے مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے مزید مؤثر بنانے کے عزم پر قائم ہے۔