الیکشن کمیشن کی بڑی کارروائی، 2 اہم سیاسی جماعتیں ڈی لسٹ، رجسٹریشن منسوخ

الیکشن کمیشن کی بڑی کارروائی، 2 اہم سیاسی جماعتیں ڈی لسٹ، رجسٹریشن منسوخ

الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی انتخابات کرانے میں ناکامی اور ضروری قانونی تقاضے پورے نہ کرنے پر مزید 2 سیاسی جماعتوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہے۔

الیکشن ایکٹ کی مسلسل خلاف ورزی پر’تحریک اتحاد‘ اور ’فریڈم موومنٹ‘ کی رجسٹریشن منسوخ کر کے انہیں سیاسی جماعتوں کی فہرست سے مکمل طور پر خارج کر دیا گیا ہے۔

قواعد کی خلاف ورزی اور کمیشن کا ایکشن

الیکشن کمیشن کی جانب سے سیاسی جماعتوں کے لیے وضع کردہ قواعد پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے کریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے۔ تازہ ترین کارروائی میں 2 مزید سیاسی جماعتوں، ‘تحریک اتحاد’ اور ‘فریڈم موومنٹ’ پر الیکشن کمیشن کا شکنجہ کسا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:شاہد خاقان کوانٹرا پارٹی انتخابات نہ کرانا مہنگا پڑگیا، الیکشن کمیشن نے عوام پاکستان پارٹی ڈی لسٹ کردی

الیکشن کمیشن کے اعلامیے کے مطابق، دونوں جماعتوں کو بارہا یاد دہانیوں کے باوجود سیاسی جماعتوں سے متعلق مقررہ قواعد و ضوابط پورے نہ کرنے پر ڈی لسٹ کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد مذکورہ پارٹیاں اب کسی بھی انتخابی عمل میں اپنے نام یا انتخابی نشان کے ساتھ حصہ لینے کی اہل نہیں رہیں۔

انٹرا پارٹی انتخابات اور قانونی تقاضوں کی ناکامی

الیکشن کمیشن کے قوانین کے تحت ملک میں رجسٹرڈ ہر سیاسی جماعت کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے تنظیمی ڈھانچے کو جمہوری خطوط پر استوار رکھنے کے لیے مقررہ وقت پر انٹرا پارٹی انتخابات کروائے۔

تاہم ’تحریک اتحاد‘ اور ’فریڈم موومنٹ‘ انٹرا پارٹی انتخابات کے انعقاد سمیت دیگر ضروری دستاویزات اور تفصیلات فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہیں۔ قانونی تقاضوں کی اس صریح خلاف ورزی پرالیکشن کمیشن نے حتمی فیصلہ سناتے ہوئے انہیں رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کے پینل سے باہر کر دیا۔

پاکستان میں انتخابی عمل کو ریگولیٹ کرنے کے لیے الیکشن ایکٹ 2017 نافذ ہے، جس کی رو سے ہر سیاسی جماعت پابند ہے کہ وہ نہ صرف اپنے اثاثوں کی تفصیلات جمع کروائے بلکہ مقررہ میعاد کے اندر اندر پارٹی کے اندرونی انتخابات کروا کر اس کا سرٹیفکیٹ بھی الیکشن کمیشن کو پیش کرے۔

مزید پڑھیں:آزاد کشمیر کے قائم مقام صدر چوہدری لطیف اکبر پر مبینہ قاتلانہ حملہ، پیپلز پارٹی کا الیکشن کمیشن سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ

گزشتہ کچھ عرصے سے الیکشن کمیشن ان تمام سیاسی جماعتوں کی اسکروٹنی کر رہا ہے جو محض کاغذوں کی حد تک محدود ہیں (جنہیں ڈمی پارٹیاں کہا جاتا ہے) اور عملی طور پر ملک کے جمہوری عمل کا حصہ نہیں ہیں۔ اس سے قبل بھی کمیشن درجنوں ایسی غیر فعال جماعتوں کو ڈی لسٹ کر چکا ہے جنہوں نے قوانین کی پاسداری نہیں کی تھی۔

الیکشن کمیشن کا ’تحریک اتحاد’ اور ’فریڈم موومنٹ‘ کو ڈی لسٹ کرنے کا یہ فیصلہ اس بات کا غماز ہے کہ کمیشن اب سیاسی جماعتوں کے احتساب کے معاملے میں کسی قسم کی لچک دکھانے کے موڈ میں نہیں ہے۔

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جو سیاسی جماعتیں اپنے اندرونی معاملات میں جمہوری اقدار (انٹرا پارٹی الیکشن) کو نافذ نہیں کر سکتیں، وہ ملکی سطح پر جمہوریت کی ترویج کا دعویٰ کیسے کر سکتی ہیں؟

یہ بھی پڑھیں:الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کے انٹرا پارٹی انتخابات تسلیم کر لیے

یہ فیصلہ دراصل ایک تطہیری عمل (فلٹریشن پروسیس) ہے جو پاکستان کے سیاسی منظرنامے سے ان جماعتوں کو صاف کر رہا ہے جن کا مقصد صرف انتخابی موسم میں سیاسی سودے بازی کرنا یا کاغذوں میں زندہ رہنا ہوتا ہے۔

اس کارروائی سے بڑی اور چھوٹی تمام سیاسی جماعتوں کو یہ واضح اور سخت پیغام ملا ہے کہ الیکشن کمیشن کے قوانین کی پاسداری محض ایک آپشن نہیں بلکہ ایک لازمی شرط ہے۔ اس طرح کے اقدامات مستقبل میں پاکستان کے جمہوری نظام کو زیادہ شفاف، جوابدہ اور مستحکم بنانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔

Related Articles