پاکستان کی مقامی صرافہ مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں ایک بار پھر کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ یکم ستمبر 2026 کو 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت 800 روپے کمی کے بعد 4 لاکھ 65 ہزار 336 روپے ہوگئی۔
آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے جاری کردہ نرخوں کے مطابق 24 قیراط سونے کے 10 گرام کی قیمت بھی 686 روپے کمی کے بعد 3 لاکھ 98 ہزار 950 روپے ہوگئی۔
اسی طرح 22 قیراط سونے کے 10 گرام کی قیمت 629 روپے کمی کے بعد 3 لاکھ 65 ہزار 717 روپے ریکارڈ کی گئی۔
چاندی کی قیمت بھی کم
مقامی مارکیٹ میں چاندی کی قیمت میں بھی کمی دیکھی گئی۔ 24 قیراط چاندی کی فی تولہ قیمت 50 روپے کمی کے بعد 7 ہزار 129 روپے ہوگئی، جبکہ 10 گرام چاندی کی قیمت 43 روپے کمی کے بعد 6 ہزار 111 روپے ریکارڈ کی گئی۔
ایک ماہ میں سونے کی قیمت کہاں سے کہاں پہنچ گئی؟
اگست کے دوران سونے کی قیمت میں مجموعی طور پر نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ دستیاب تاریخی ریکارڈ کے مطابق اگست کے آغاز میں 24 قیراط سونا تقریباً 4 لاکھ 26 ہزار روپے فی تولہ کے آس پاس تھا، جبکہ ماہ کے دوران قیمت بڑھ کر 4 لاکھ 80 ہزار روپے سے زائد کی سطح تک بھی پہنچی۔
اگست کے آخری دنوں میں قیمت میں نمایاں کمی آئی۔ 29 اگست کو ایسوسی ایشن کے مطابق سونا 4 لاکھ 67 ہزار 936 روپے فی تولہ تک آگیا تھا، جبکہ یکم ستمبر کو تازہ کمی کے بعد یہ 4 لاکھ 65 ہزار 336 روپے پر پہنچ گیا۔
یعنی اگست کے آغاز کے مقابلے میں موجودہ قیمت اب بھی تقریباً 38 ہزار 600 روپے فی تولہ زیادہ ہے، اگر یکم اگست کے ایسوسی ایشن کے رپورٹ شدہ 4 لاکھ 26 ہزار 736 روپے کے نرخ کو بنیاد بنایا جائے۔
اس طرح حالیہ کمی کے باوجود ایک ماہ کے عرصے میں سونے کی قیمت میں مجموعی طور پر نمایاں اضافہ برقرار ہے، تاہم اگست کے دوران بننے والی بلند ترین سطح کے مقابلے میں موجودہ نرخ کافی نیچے آچکا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں بھی سونا سستا
بین الاقوامی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت میں کمی دیکھی گئی۔ یکم ستمبر کو عالمی سطح پر سونا تقریباً 8 ڈالر کمی کے بعد 4,428 ڈالر فی اونس رپورٹ کیا گیا، جبکہ چاندی 50 سینٹ کمی کے بعد 66.50 ڈالر فی اونس رہی۔
عالمی سطح پر سونے کی قیمتیں امریکی معاشی اعدادوشمار، شرح سود سے متعلق توقعات، ڈالر کی قدر اور جغرافیائی سیاسی صورتحال سے متاثر ہورہی ہیں۔
مقامی مارکیٹ میں بھی عالمی نرخوں اور روپے کی قدر سمیت مختلف عوامل کے باعث سونے کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اتار چڑھاؤ جاری رہنے کا امکان ہے۔