سندھ میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے معاملے پر بحث ایک مرتبہ پھر سندھ اسمبلی کے ایوان تک پہنچ گئی ہے۔ سندھ اسمبلی کے رکن عبدالباسط نے واضح کیا ہے کہ اگر نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے سندھ کے عوام کو بہتر حکمرانی، صحت، صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی جاسکتی ہیں تو اس میں کوئی برائی نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے انتظامی یونٹس کے معاملے کو سندھ توڑنے کے نعرے سے جوڑنے کے بجائے عوامی مفاد اور بہتر گورننس کے تناظر میں دیکھا جائے۔
سندھ اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے ایم پی اے عبدالباسط نے کہا کہ آخر سندھ کی تقسیم چاہتا کون ہے۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ انتظامی یونٹس بنانے کی بات سندھ کو توڑنے کے مترادف ہے تو وہ حقیقت کو سمجھنے سے قاصر ہے یا پھر جان بوجھ کر اس معاملے کو فساد کی طرف لے جانا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کی بات کا مقصد سندھ کو تقسیم کرنا نہیں بلکہ انتظامی نظام کو بہتر بنانا اور عوام کو سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :پاکستان میں نئے صوبے کیسے بنیں گے؟ اہم تفصیلات سامنے آگئیں
ایم پی اے عبدالباسط نے کہا کہ جب بھی نئے انتظامی یونٹس کی بات ہوتی ہے تو آئین کا حوالہ دیا جاتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ آئین میں عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی ذمہ داری بھی عائد کی گئی ہے۔ اگر آئین کی بات کی جاتی ہے تو پھر اس کی ان شقوں پر بھی عمل ہونا چاہیے جن کا تعلق عوام کی فلاح اور ریاستی ذمہ داریوں سے ہے۔
انہوں نے کرپشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئین میں کرپشن کی اجازت نہیں دی گئی لیکن اس کے باوجود ملک میں کرپشن کا مسئلہ موجود ہے۔ انہوں نے کہا اگر آئین کی بات کرتے ہوئے نئے انتظامی یونٹس کی مخالفت کی جاتی ہے تو پھر یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ آئین میں جن اصولوں اور ذمہ داریوں کا تعین کیا گیا ہے ان پر عملی طور پر کتنا عمل ہورہا ہے۔


