نئے صوبے بنانا آئین کے مطابق ،سندھ کی تقسیم سے جوڑنا درست نہیں،ریحان اکرم

نئے صوبے بنانا آئین کے مطابق ،سندھ کی تقسیم سے جوڑنا درست نہیں،ریحان اکرم

سندھ اسمبلی میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کے معاملے پر جاری بحث میں ایم کیو ایم پاکستان کے رکن سندھ اسمبلی ریحان اکرم نے نئے انتظامی یونٹس کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے آئین میں نئے صوبے بنانے کا طریقہ کار واضح طور پر موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامی یونٹس کے قیام کو سندھ کی تقسیم سے جوڑنا درست نہیں کیونکہ کسی علاقے کو بہتر انتظامی سہولیات فراہم کرنے کے لیے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی صوبے کی وحدت ختم نہیں کرتی۔

سندھ اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے ریحان اکرم نے کہا کہ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کو آئین دیا اور اسی آئین میں مستقبل میں صوبوں کے قیام کے لیے طریقہ کار بھی واضح کیا گیا۔ ا نہوں نے کہا کہ اگر آئین بنانے والے رہنماؤں نے آنے والے وقت کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے نئے صوبوں کے قیام کی گنجائش رکھی تھی تو آج اس معاملے پر بحث سے گریز نہیں کیا جانا چاہیے۔

 یہ بھی پڑھیں :نئے صوبے وقت کی ضرورت، اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنا ہوں گے، مصطفیٰ کمال

ریحان اکرم نے کہا کہ وقت کے ساتھ آبادی میں اضافہ ہوتا ہے اور شہری و انتظامی مسائل بھی بڑھتے ہیں۔ ایسے حالات میں ریاستی اور انتظامی نظام کو عوام کی ضروریات کے مطابق بہتر بنانا ضروری ہے ، انہوں نے کہا کہ اگر کسی بڑے صوبے کے اندر نئے انتظامی یونٹس قائم کیے جائیں تو اس کا مقصد عوام کو ان کے قریب بہتر حکمرانی اور بنیادی سہولیات فراہم کرنا ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ ایک ہے اور سندھ ہی رہے گا۔ نئے انتظامی یونٹس بنانے کا مطلب سندھ کو توڑنا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کراچی میں انتظامی ضرورت کے تحت اضلاع بنائے جاسکتے ہیں اور ضلع یا ڈویژن کے قیام سے صوبہ تقسیم نہیں ہوتا تو پھر مزید انتظامی یونٹس کے قیام کو سندھ کی تقسیم قرار دینے کی منطق بھی سمجھ سے بالاتر ہے۔

ریحان اکرم نے کہا کہ پاکستان کے آئین میں نئے صوبے بنانے کے لیے ایک واضح طریقہ کار موجود ہے۔ اگر ملک کی انتظامی ضروریات تبدیل ہوئی ہیں تو آئینی دائرے میں رہتے ہوئے ان ضروریات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے ، انہوں نے کہا کہ سی بھی نئے انتظامی یونٹ کے قیام کا مقصد عوام کی زندگی آسان بنانا اور حکمرانی کے نظام کو مزید مؤثر کرنا ہونا چاہیے۔

 یہ بھی پڑھیں :وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لئے نئے صوبے بنائے جائیں، حافظ آباد اور چنیوٹ کے عوام کا ’’آزاد ڈیجیٹل‘‘ سروے میں مطالبہ

ریحان اکرم نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ نئے انتظامی یونٹس کا مطالبہ سندھ کی وحدت کے خلاف ہے ، انہوں نے کہا کہ انتظامی تقسیم اور صوبائی تقسیم دو الگ معاملات ہیں اور ان دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملانا درست نہیں۔ اگر انتظامی یونٹس کے ذریعے لوگوں کو بہتر سہولیات، تیز انصاف، بہتر صحت، تعلیم اور مؤثر بلدیاتی نظام فراہم کیا جاسکتا ہے تو اس تجویز پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔

editor

Related Articles