رکن سندھ اسمبلی محمد دانیال نے سندھ میں نئے انتظامی یونٹس اور نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی نے سندھ کی جغرافیائی حدود تبدیل کرنے یا صوبے کو تقسیم کرنے کی بات نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کوئی کاغذ کا ٹکڑا نہیں کہ اسے تقسیم کردیا جائے گفتگو کا مقصد بہتر حکمرانی اور عوام کو سہولیات کی فراہمی کے لیے انتظامی نظام میں بہتری لانا ہے۔
سندھ اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے محمد دانیال نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کے معاملے کو سندھ کی تقسیم سے جوڑنا درست نہیں۔ سندھ کی جغرافیائی حدود اپنی جگہ برقرار رہیں گی اور نہ ہی سندھ کے بارڈر تبدیل کرنے کی کوئی بات کی جارہی ہے۔
رکن سندھ اسمبلی نے کہا کہ سندھ میں صحت اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں مسائل موجود ہیں اور ان مسائل کے حل کے لیے انتظامی سطح پر مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ آنے والے دنوں میں انتظامی یونٹس کے حوالے سے آواز مزید بلند ہوگی کیونکہ عوامی مسائل کا حل بہتر حکمرانی سے جڑا ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :نئے صوبے بننے سے ترقیاتی منصوبوں کا عمل تیز ہوگا،روزگار کے مواقع بڑھیں گے، کوئٹہ کے شہری
محمد دانیال نے کہا کہ سندھ مختلف قوموں اور برادریوں کا صوبہ ہے اور یہاں رہنے والے تمام لوگوں کے مسائل اور حقوق کی بات ہورہی ہے۔ ہ انتظامی یونٹس کی بحث کسی ایک قوم یا طبقے تک محدود نہیں بلکہ سندھ میں رہنے والے تمام لوگوں کے بہتر مستقبل اور سہولیات کے حوالے سے ہے۔
رکن سندھ اسمبلی نے نے کہا کہ انتظامی بنیادوں پر نئے اضلاع یا یونٹس بننے سے سندھ کی جغرافیائی حیثیت تبدیل نہیں ہوتی۔ وقت کے ساتھ آبادی اور ضروریات تبدیل ہوتی رہتی ہیں اور اسی کے مطابق انتظامی ڈھانچے میں بھی تبدیلیاں آتی ہیں۔ وقت کی ضرورت کے تحت نئے انتظامی یونٹس قائم کیے جائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے۔
محمد دانیال نے اس بات پر زور دیا کہ انتظامی یونٹس کے قیام کو سندھ کے بارڈر تبدیل کرنے کے ساتھ نہ جوڑا جائے۔ سندھ کی جغرافیائی حدود وہی رہیں گی اور صوبے کی سرحدوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی جارہی۔ انتظامی یونٹ بنانا ایک انتظامی معاملہ ہے جس کا بنیادی مقصد عوام کو بہتر حکمرانی اور سہولیات فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے بھی واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ وہ نئے صوبوں کی مکمل حمایت کرتے ہیں ، انتظامی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے نئے صوبوں کے قیام پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے اور اسے سیاسی جذبات کے بجائے عوامی مفاد اور بہتر گورننس کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں :عوام کے بہتر مستقبل کے لیے انتظامی یونٹس بنانے میں کوئی حرج نہیں،ایم پی اے عبدالباسط
رکن سندھ اسمبلی محمد دانیال کا کہنا تھا کہ اگر انتظامی ڈھانچے میں بہتری کے ذریعے عوام کے مسائل کم کیے جاسکتے ہیں تو اس پر بات کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ صحت اور تعلیم جیسے بنیادی مسائل کے حل کے لیے مؤثر انتظامی نظام ضروری ہے اور عوام کو ایسی حکمرانی ملنی چاہیے جو ان کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرسکے۔
رکن سندھ اسمبلی نے کہا کہ انتظامی بنیادوں پر نئے یونٹس کے قیام کا مقصد کسی علاقے کی شناخت ختم کرنا یا صوبے کی جغرافیائی حدود تبدیل کرنا نہیں بلکہ نظام حکومت کو زیادہ مؤثر بنانا ہے ۔


