عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں چار ڈالر سے زائد کا اضافہ، ڈبلیو ٹی آئی 90 ڈالر اور برطانوی خام تیل 94 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گیا۔
ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے اثرات عالمی منڈی پر بھی نمایاں ہونا شروع ہوگئے ہیں اور خام تیل کی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت پانچ فیصد سے زیادہ اضافے کے بعد 90 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کرگئی جو کئی ہفتوں کی بلند ترین سطح ہے۔ دوسری جانب برطانوی خام تیل برینٹ کی قیمت بھی نمایاں اضافے کے بعد94 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی ۔
ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے۔ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی صورتحال نے عالمی توانائی کی ترسیل کے حوالے سے خدشات پیدا کردیئے ہیں۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں پر خطے کی صورتحال کا براہ راست اثر پڑتا ہے اور کسی بھی بڑے فوجی تصادم یا بحری راستوں میں رکاوٹ سے تیل کی عالمی رسد متاثر ہونے کا خدشہ موجود رہتا ہے۔
حالیہ صورتحال میں امریکی فوج کی جانب سے ایران کے خلاف نئی کارروائیوں اور آبنائے ہرمز کے قریب فوجی سرگرمیوں میں اضافے نے عالمی منڈیوں کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کا انتہائی اہم راستہ ہے اور یہاں کشیدگی میں معمولی اضافہ بھی عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں فوری ردعمل کا باعث بن سکتا ہے۔