عمران خان کی بیٹوں سے بات کیوں نہ ہو سکی ؟ بیرسٹر عقیل کا بڑا انکشاف

عمران خان کی بیٹوں سے بات کیوں نہ ہو سکی ؟ بیرسٹر عقیل کا بڑا انکشاف

وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ان کے بیٹوں سے ٹیلی فون پر بات کرانے کی دو مرتبہ کوشش کی گئی تاہم دونوں مرتبہ بات نہیں ہوسکی۔ ان کا کہنا تھا کہ یا تو رابطے کا مسئلہ درپیش ہے یا پھر عمران خان کے بیٹے اپنے والد سے بات ہی نہیں کرنا چاہتے۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ حکومت کی جانب سے عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کیا جارہا ہے اور اس سلسلے میں عمران خان کی بہنوں سے ملاقاتیں بھی کرائی جاچکی ہیں۔ ان کے مطابق حکومت نے عدالتی احکامات کے تحت ملاقاتوں کی اجازت دی ہے تاہم ملاقاتوں کو سیاسی سرگرمیوں یا پروپیگنڈے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

وزیر مملکت برائے قانون نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کے بیٹوں سے ان کی بات کرانے کے لیے دو مرتبہ کوشش کی گئی لیکن کامیابی نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کا واٹس ایپ نمبر صرف کالنگ پر جاتا ہے اور رابطے میں تکنیکی مسئلہ بھی ہوسکتا ہے ، انہوں نے کہا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ عمران خان کے بیٹے اپنے والد سے بات نہیں کرنا چاہتے ہوں۔

 یہ بھی پڑھیں :پی ٹی آئی پر کون قبضہ کرنا چاہتا ہے؟ بیرسٹر عقیل کا بڑا دعویٰ

بیرسٹر عقیل ملک نے عمران خان کے بیٹوں کی جانب سے پاکستان آنے کے لیے ویزا مسائل کا مؤقف بھی مسترد کیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے بیٹوں کے پاس مؤثر پاکستانی شناختی کارڈ موجود ہیں اور اس کے باوجود ویزا کا بہانہ بنایا جارہا ہے۔ اس معاملے میں حکومت کی جانب سے اپنی ذمہ داری پوری کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کی بہنوں سے ملاقاتیں بھی کرائی جاچکی ہیں اور حکومت عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کررہی ہے۔ تاہم ان کے بقول بعض افراد ملاقاتوں کے موقع پر سیاسی مقاصد کے لیے ایسی سرگرمیاں کرتے ہیں جن سے عدالت میں دی گئی یقین دہانی کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

وزیر مملکت برائے قانون نے مزید کہا کہ اگر ملاقاتوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی تو حکومت ملاقاتوں پر پابندی عائد کرسکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت ملاقاتوں کے حق میں ہے لیکن ملاقاتوں کی آڑ میں سیاسی پروپیگنڈے یا اداروں کے خلاف مہم چلانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ آج عمران خان سے ملاقات کرنے والے افراد کو بھی ایک وارننگ دی گئی ہے۔ ملاقات کے بعد سیاسی پروپیگنڈا کیا گیا جسے عدالت میں دی گئی انڈرٹیکنگ کی خلاف ورزی سمجھا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا جارہا ہے اور آئندہ ایسی صورتحال پیدا ہوئی تو ملاقاتوں کے حوالے سے سخت اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں:عمران خان بار بار خط لکھ کر مدد مانگ رہے ہیں : مشیر وزیر اعظم بیرسٹر عقیل ملک

وزیر مملکت نے کہا کہ عمران خان سے ملاقات کے معاملے پر سپریم کورٹ میں اگلی سماعت سے قبل بھی ملاقات ہوسکتی ہے۔ تاہم ان کے مطابق ملاقات کی اجازت مقررہ ضوابط اور عدالتی فیصلے کے تحت ہی دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی ترجیح عدالتی احکامات پر عملدرآمد کرنا ہے اور اس حوالے سے کسی فریق کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جارہا۔ عمران خان کے اہل خانہ کو ملاقات کی سہولت فراہم کی گئی ہے اور مستقبل میں بھی عدالت کے احکامات کے مطابق اقدامات کیے جائیں گے۔

بیرسٹر عقیل ملک کے بیان کے بعد عمران خان اور ان کے بیٹوں کے درمیان رابطے کا معاملہ ایک مرتبہ پھر سیاسی بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے اہل خانہ سے ملاقات اور رابطے کے لیے قانونی راستے موجود ہیں جبکہ ملاقاتوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے روکنا بھی ضروری ہے۔

editor

Related Articles