پمز کی ایمر جنسی سے جعلی ڈاکٹر پکڑا گیا ، میڈیکل آفیسر کی مہر دیگر سامان برآمد

پمز  کی ایمر جنسی سے جعلی ڈاکٹر پکڑا گیا ، میڈیکل آفیسر کی مہر دیگر سامان برآمد

 اسلام آباد، پمز اسپتال میں سیکیورٹی اور انتظامی نگرانی کے حوالے سے ایک اور سنگین سوال سامنے آگیا، جہاں ایک نوجوان مبینہ طور پر جعلی ڈاکٹر بن کر ہسپتال کی ایمرجنسی میں ڈیوٹی کرتا ہوا پکڑا گیا۔ ہسپتال انتظامیہ نے مشکوک شخص کو حراست میں لے کر پولیس کے حوالے کردیا جس کے بعد تھانہ کراچی کمپنی میں مقدمہ درج کرکے معاملے کی باقاعدہ تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق گرفتار نوجوان کی شناخت مظہر منظور کے نام سے ہوئی ہے ، وہ پمز اسپتال کی ایمرجنسی میں ڈاکٹر کے روپ میں موجود تھا۔ اس کے لباس اور انداز سے بظاہر وہ طبی عملے کا حصہ محسوس ہوتا تھا، تاہم اسپتال میں موجود افراد کو اس کی موجودگی پر شک ہوا، جس کے بعد انتظامیہ نے اس سے متعلق معلومات اور شناخت کی جانچ شروع کی۔

 یہ بھی پڑھیں :سانحہ پمز میں زندہ بچ جانے والی واحد بچی آئی سی یو میں داخل ، دعائوں کی اپیل

پوچھ گچھ کے دوران نوجوان اپنے بارے میں تسلی بخش وضاحت نہ دے سکا، جس پر معاملہ مزید مشکوک ہوگیا۔ انتظامیہ نے اس کی تلاشی لی تو مبینہ طور پر اس کے قبضے سے ایک سٹیتھوسکوپ اور میڈیکل افسر کے نام سے بنائی گئی جعلی مہر برآمد ہوئی۔ سامان کی برآمدگی کے بعد اسپتال انتظامیہ نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی اور نوجوان کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کردیا۔

پولیس نے واقعے کا مقدمہ تھانہ کراچی کمپنی میں درج کرکے ملزم سے تفتیش شروع کردی ہے۔ پولیس کے مطابق معاملے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ملزم کس مقصد کے تحت ڈاکٹر کا روپ دھار کر پمز اسپتال کی ایمرجنسی میں موجود تھا۔

تفتیشی حکام اس بات کا بھی سراغ لگانے میں مصروف ہیں کہ ملزم کب سے ہسپتال آ جا رہا تھا اور اس دوران اس نے خود کو ڈاکٹر ظاہر کرکے کس حد تک ہسپتال کے نظام تک رسائی حاصل کی۔ اس حوالے سے بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ آیا ملزم نے کسی مریض کا معائنہ کیا، کسی کو طبی مشورہ دیا یا ہسپتال کے کسی ڈاکٹر، نرس یا دیگر طبی عملے سے براہ راست رابطہ کیا یا نہیں۔

 یہ بھی پڑھیں :پمز سانحہ؛ اپنی جان پر کھیل کر نومولود کو بچانے والی نرس کیلئے ستارہ خدمت، ایک کروڑ انعام

پولیس نے گرفتار ملزم کو عدالت میں پیش کیا جہاں سے اس کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرلیا گیا۔ تفتیشی ٹیم اب ملزم سے مزید پوچھ گچھ کے ذریعے اس کے مقصد، اسپتال میں آمدورفت اور ممکنہ طور پر اس کے ساتھ کسی دوسرے شخص کے ملوث ہونے سمیت مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔

واقعے نے پمز اسپتال میں سیکیورٹی اور شناخت کی جانچ کے نظام پر بھی اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ایک حساس طبی مرکز کی ایمرجنسی میں کسی غیر متعلقہ شخص کا ڈاکٹر کا روپ دھار کر موجود ہونا انتظامی نگرانی کے لیے سنجیدہ معاملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ طبی مراکز میں ڈاکٹرز اور دیگر عملے کی شناخت کی مؤثر تصدیق نہ صرف انتظامی ضرورت ہے بلکہ مریضوں کی جان و صحت کے تحفظ کے لیے بھی انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔

editor

Related Articles