ہماری کہکشاں ملکی وے میں کوئی ایسی چیز حرکت کر رہی ہو سکتی ہے جسے دوربین سے براہ راست دیکھنا ممکن نہیں، تاہم اس کی موجودگی کا اندازہ اس کی کشش ثقل سے پیدا ہونے والی تبدیلیوں سے لگایا جا سکتا ہے۔
ماہرین فلکیات ملکی وے کے گرد موجود ستاروں کی لمبی اور باریک قطاروں کو اس مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ قطاریں دراصل ایسے ستاروں پر مشتمل ہوتی ہیں جو کشش ثقل کے باعث چھوٹے کہکشانی نظاموں یا ستاروں کے جھرمٹ کے ٹوٹنے کے بعد خلا میں پھیل گئے۔
ان ستاروں کی حرکت ایک خاص ترتیب کے تحت ہوتی ہے، اس لیے اگر ان کی قطار میں اچانک خلا، خم یا کثافت میں تبدیلی نظر آئے تو یہ کسی ایسے بڑے جسم کی کشش ثقل کا نتیجہ ہوسکتی ہے جسے براہ راست دیکھا نہیں جاسکتا۔
یہی وجہ ہے کہ سائنسدان ان ستاروں کی قطاروں کو کائناتی ڈیٹیکٹرز کی طرح استعمال کرتے ہیں۔ اگر کوئی بڑا غیر مرئی جسم ان کے قریب سے گزرے تو اس کی کشش ثقل ستاروں کے راستے تبدیل کرسکتی ہے اور خلا میں ایک ایسا نشان چھوڑ سکتی ہے جو طویل عرصے تک برقرار رہے۔
ماہرین کے مطابق ایسی تبدیلیوں کی ایک ممکنہ وجہ ڈارک میٹر کا ذیلی ہالہ ہوسکتا ہے۔ یہ ڈارک میٹر کا ایک گنجان مجموعہ ہوتا ہے جس میں بہت کم یا ممکنہ طور پر کوئی ستارہ موجود نہیں ہوتا۔
ڈارک میٹر روشنی خارج نہیں کرتا، اسی لیے اسے براہ راست دیکھنا ممکن نہیں۔ سائنسدان اس کی موجودگی کا اندازہ اس کے کشش ثقل کے اثرات سے لگاتے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ہماری پوری ملکی وے کہکشاں بھی ڈارک میٹر کے ایک بہت بڑے ہالے کے اندر موجود ہے۔
تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یہ کہنا کہ کوئی چیز حال ہی میں ’بغیر روشنی، حرارت یا کسی وارننگ کے ملکی وے سے ٹکرا کر گزر گئی‘ سائنسی طور پر ثابت شدہ مشاہدہ نہیں بلکہ ایک ڈرامائی انداز بیان ہے۔
سائنسدان عموماً ستاروں کی موجودہ حرکت اور پھیلاؤ کا جائزہ لے کر ماضی میں ہونے والی کشش ثقل کی ایسی ممکنہ مداخلتوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ان تبدیلیوں کی وجہ ڈارک میٹر کے ڈھانچے، مدھم چھوٹی کہکشائیں، ستاروں کے جھرمٹ یا دیگر بڑے اور گنجان اجسام بھی ہوسکتے ہیں۔ کسی خاص خلل کی اصل وجہ جاننے کے لیے مزید مشاہدات، تفصیلی پیمائش اور کمپیوٹر سمیولیشنز کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس تحقیق کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ خلا میں کسی چیز کو دریافت کرنے کے لیے اسے دیکھنا ہمیشہ ضروری نہیں۔ بعض اوقات کشش ثقل ہزاروں نوری سال دور موجود ستاروں پر اپنے اثرات کی صورت میں ایسی چیز کے ’نقوش‘ چھوڑ دیتی ہے جو خود مکمل طور پر اندھیرے میں چھپی ہوئی ہو۔