ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام ’’راست‘‘ کے بارے میں زیرِگردش خبر پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اہم وضاحت جاری کردی۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک گمراہ کن سرخی گردش کررہی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) نے ’’راست‘‘ کو منی لانڈرنگ کے چینل کے طور پر شناخت کیا ہے۔
مرکزی بینک نے واضح کیا ہے کہ FATF کی رپورٹ میں نہ تو ’’ راست‘‘ کو منی لانڈرنگ کے طریقہ کار کے طور پر شناخت کیا گیا ہے اور نہ ہی ’’راست‘‘ کے ادائیگی کے بنیادی ڈھانچے کی سالمیت کے حوالے سے کوئی خاص تشویش ظاہر کی گئی ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق رپورٹ میں مختلف ممالک اور دائرہ اختیار میں بینکنگ اور حوالہ نیٹ ورکس کے ذریعے رسمی بینکنگ اور ادائیگی کے ذرائع کے ممکنہ غلط استعمال پر بحث کی گئی ہے۔
مرکزی بینک نے کہا کہ رپورٹ میں ’’راست‘‘ کا ذکر صرف مقامی ادائیگیوں اور منتقلی کے لیے استعمال ہونے والے جائز مقامی ادائیگی چینل کے طور پر کیا گیا ہے۔ ’’راست‘‘ فی الحال سرحد پار منتقلی کی سہولت فراہم نہیں کررہا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کے ادائیگی کے نظام کی سالمیت برقرار رکھنے اور بین الاقوامی معیارات کے مطابق حفاظتی اقدامات کی مسلسل نگرانی اور انہیں مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔