امریکا نے سعودی عرب کو تقریباً 5 ارب ڈالر مالیت کے جدید بم فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے، جبکہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون کے علاوہ عمان اور عراق کے لیے بھی اربوں ڈالر کے دفاعی معاہدوں کی منظوری دی گئی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق سعودی عرب کو جوائنٹ ڈائریکٹ اٹیک میونیشنز ایکسٹینڈڈ رینج (JDAM-ER) کی فروخت کی منظوری دی گئی ہے۔ اس دفاعی سودے کی بنیادی مالیت تقریباً 5 ارب ڈالر ہے جبکہ اس کا بنیادی ٹھیکہ امریکی کمپنی بوئنگ کو ملنے کا امکان ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ مجوزہ دفاعی فروخت سے سعودی عرب کو موجودہ اور مستقبل کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ سعودی عرب کی دفاعی تیاری، آپریشنل ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت اور امریکا کے ساتھ دفاعی تعاون میں بھی بہتری آنے کی توقع ہے۔
امریکا نے سعودی عرب کو 750 ملین ڈالر مالیت کے AGT-150 انجنوں کی علیحدہ فروخت کی بھی منظوری دی ہے۔ ان انجنوں کا استعمال لڑاکا ٹینکوں میں کیا جاتا ہے جبکہ اس معاہدے کا ٹھیکہ امریکی کمپنی ہنی ویل کو ملے گا۔
یوں سعودی عرب کے لیے منظور کیے گئے دونوں دفاعی سودوں کی مجموعی مالیت تقریباً 5 ارب 75 کروڑ ڈالر بنتی ہے۔
دوسری جانب عراق کو 150 ملین ڈالر مالیت کے Bell 412EPX ہیلی کاپٹرز فروخت کرنے کی بھی منظوری دی گئی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ان دفاعی معاہدوں کا مقصد متعلقہ ممالک کی دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنانا اور امریکا کے ساتھ سکیورٹی و دفاعی تعاون کو مزید مضبوط کرنا ہے۔