پنجاب میں سرائیکی صوبے کی حمایت، نئے انتظامی یونٹس کی بات پر سندھ کا کارڈ؟ خواجہ آصف نے پی پی کو آڑے ہاتھوں لے لیا

 پنجاب میں سرائیکی صوبے کی حمایت، نئے انتظامی یونٹس کی بات پر سندھ کا کارڈ؟ خواجہ آصف نے پی پی کو آڑے ہاتھوں لے لیا

  وزیر دفاع خواجہ آصف نے ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے معاملے پر پیپلز پارٹی کے مؤقف کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب میں سرائیکی صوبے کی بات ہوتی ہے تو پیپلز پارٹی اس کی حمایت کرتی ہے یا اس معاملے پر نرم گوشہ ظاہر کرتی ہے، لیکن جب چار صوبوں کے بجائے متعدد صوبوں یا انتظامی یونٹس کی بات کی جاتی ہے تو سندھودیش کی بات شروع کردی جاتی ہے۔

خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری  اپنے بیان میں پیپلز پارٹی کی اس پالیسی کو دو رخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے کے پیچھے کچھ اور دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سےفی الحال تفصیل میں نہیں جانا چاہتا تاہم کسی وقت مناسب موقع آنے پر اس کی تشریح کریں گے۔

وزیر دفاع نے واضح کیا کہ اصل معاملہ کسی مخصوص صوبے یا انتظامی یونٹ کے قیام سے زیادہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے انتظامی ڈھانچے کو عوام کی ضروریات کے مطابق بہتر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :مودی نے پہلے جنگ کے میدان میں اب بین الاقوامی عدالت میں بھارت کو ذلیل کرا دیا، خواجہ آصف

خواجہ آصف نے کہا کہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ایک آئینی اصول ہے جسے اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے طے کیا گیا تھا تاہم اس اصول کا مکمل احترام نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ اختیارات کی منتقلی کے آئینی اصول پر دیانت داری کے ساتھ عملدرآمد کیا جائے۔

اختیارات کا ارتکاز موجودہ نظام کو فرسودہ بنا چکا

وزیر دفاع نے کہاکہ جمہوریت صرف پارلیمان یا صوبائی حکومتوں تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ اسے نچلی سطح یعنی عوام کی دہلیز تک مضبوط ہونا چاہیے تاکہ عام شہری بھی جمہوری نظام کے ثمرات سے حقیقی معنوں میں مستفید ہوسکے۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ انتظامی نظام کو اختیارات کے ارتکاز نے فرسودہ بنا دیا ہے، اس لیے اسے دیانت داری کے ساتھ درست کرنے کی ضرورت ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ بحث صرف اس بات پر نہیں ہونی چاہیے کہ نئے انتظامی ڈھانچے کو صوبہ کہا جائے یا انتظامی یونٹ۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ فیصلہ سازی اور حکومتی اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کیا جائے تاکہ انتظامیہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرسکے۔

36 ڈویژن موجود ہیں، انہی کو انتظامی بنیاد بنایا جاسکتا ہے

وزیر دفاع نے تجویز پیش کی کہ ملک میں پہلے سے موجود 36 ڈویژن کو بھی انتظامی بنیاد کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے یا اس کے بجائے کوئی نیا انتظامی و جغرافیائی منصوبہ تشکیل دیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نام یا لیبل بنیادی مسئلہ نہیں اصل معاملہ اختیارات کی منتقلی ہے۔ صوبے بنائے جائیں یا انتظامی یونٹس تشکیل دیے جائیں، اختیارات کا ارتکاز ختم کرکے انہیں نچلی سطح تک منتقل کرنا اب ناگزیر ہوچکا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :وزارت اطلاعات نے خواجہ آصف کی سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کو جعلی قرار دیدیا

خواجہ آصف نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کے انتظامی نظام میں اصلاحات سیاسی مفادات کے بجائے قومی ضرورت، عوامی سہولت اور جمہوریت کے فروغ کو سامنے رکھتے ہوئے کی جانی چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ وقت اور حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ اختیارات کی منتقلی کے معاملے پر سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہوکر دیانت داری کے ساتھ عمل کیا جائے تاکہ گراس روٹ لیول پر جمہوریت حقیقی معنوں میں پنپ سکے اور اس کے ثمرات عام عوام تک پہنچ سکیں ۔

editor

Related Articles