امریکا اور ایران کے درمیان عمان کی ثالثی میں جاری مذاکرات اہم مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں اور ذرائع کے مطابق آبنائے ہرمز سے متعلق عبوری معاہدہ طے پا گیا ہے جس کا باضابطہ اعلان آج متوقع ہے۔
امریکی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ ایرانی قیادت بھی اس عبوری معاہدے کی منظوری دے چکی ہے جبکہ خطے کے کئی اہم ممالک نے مذاکرات کو کامیاب بنانے میں کلیدی سفارتی کردار ادا کیا۔
رپورٹس کے مطابق عمان کی میزبانی میں ہونے والے مذاکرات کے دوران قطر، پاکستان اور سعودی عرب نے بھی پس پردہ رابطوں اور سفارتی کوششوں کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی میں اہم کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں معاہدے کی راہ ہموار ہوئی۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ عبوری معاہدہ ابتدائی طور پر 60 روز کے لیے ہوگا جس کے تحت آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت معمول پر لانے کے لیے مشترکہ انتظامات کیے جائیں گے۔ اس عرصے کے دوران تیل بردار جہازوں سمیت تجارتی بحری نقل و حمل کو محفوظ بنانے کے لیے مختلف اقدامات پر عمل درآمد کیا جائے گا۔
معاہدے کے مسودے میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر عائد ٹول فیس عارضی طور پر معاف کرنے کی تجویز بھی شامل ہے تاکہ عالمی تجارتی سرگرمیوں اور تیل کی ترسیل کو مزید سہولت فراہم کی جا سکے۔ اس کے علاوہ بحری راستوں میں موجود بارودی سرنگوں کو مرحلہ وار ہٹانے کا منصوبہ بھی عبوری معاہدے کا حصہ بتایا جا رہا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ایرانی قیادت نے مجوزہ عبوری معاہدے کی اصولی منظوری دے دی ہے جبکہ امریکا کی جانب سے بھی اس پر مثبت پیش رفت کا اظہار کیا گیا ہے۔ تاہم معاہدے کی مکمل تفصیلات اور اس پر عمل درآمد کے طریقہ کار کا باضابطہ اعلان متوقع مشترکہ بیان میں سامنے آئے گا۔