6 ستمبر 1965 پاکستان کی تاریخ کا وہ دن ہے جب پاک بھارت کشیدگی نے کھلی جنگ کی شکل اختیار کی۔ 5 اور 6 ستمبر کی درمیانی شب بھارتی فوج نے بین الاقوامی سرحد عبور کرکے پنجاب کے مختلف مقامات سے پیش قدمی شروع کی اور لاہور، قصور اور سیالکوٹ کے علاقوں میں محاذ کھل گئے۔ پاکستان میں یہ دن آج یومِ دفاع و شہدا کے طور پر منایا جاتا ہے۔
جنگ کے پہلے ہی 24 گھنٹوں میں لاہور کے دروازوں تک بھارتی فوج کی پیش قدمی، جسر کے محاذ پر لڑائی، پاک فضائیہ کی کارروائیاں اور پاکستانی فوج کی جوابی مزاحمت نے آنے والے 17 روزہ معرکے کی سمت متعین کردی۔
رات گئے سرحد پار کرنے کی پیش قدمی
پانچ اور چھ ستمبر کی درمیانی شب، بھارتی افواج نے تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پنجاب کے متعدد مقامات پر بین الاقوامی سرحد پامال کر دی۔ لاہور کے محاذ پر دشمن فوج نے واہگہ تا ڈوگرائی، کھیم کرن تا قصور، اور کھالڑہ تا برکی کےمحور پر پیش قدمی کی۔
بھارتی حملے کا ایک اہم مقصد لاہور کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے بی آر بی/ اچھوگِل نہر تک پہنچنا تھا جو لاہور کے دفاع میں ایک اہم آبی رکاوٹ تھی۔ بھارتی فوجی تاریخ کے مطابق لاہور سیکٹر میں حملے کا مقصد پاکستانی فوج کو کشمیر کے محاذ سے اپنی توجہ ہٹا کر پنجاب میں دفاع پر مجبور کرنا بھی تھا۔
تقریباً صبح 3 بجے جسر میں پہلا بڑا دباؤ
جسر کے علاقے میں بھارتی توپ خانے کی گولہ باری شروع ہوئی اور اس کے بعد بھارتی فوج نے پیش قدمی کی تاریخی ریکارڈ کے مطابق جسر کے ایک پاکستانی علاقے میں بھارتی فوج نے عارضی طور پر قدم جمایا تاہم پاکستانی فوج نے چند گھنٹوں کے اندر جوابی کارروائی شروع کردی۔
جسر کا محاذ لاہور کے شمال مشرق میں تھا اور یہاں ہونے والی لڑائی نے واضح کردیا کہ حملہ صرف ایک مقام تک محدود نہیں بلکہ پنجاب کے وسیع محاذ پر جنگ شروع ہوچکی ہے امریکی محکمہ خارجہ کے تاریخی ریکارڈ میں بھی 6 ستمبر کی صبح صدر ایوب خان نے لاہور کے اطراف جسر مکبل پورہ بیڈیاں اور دیگر علاقوں میں بھارتی سرگرمیوں کی نشاندہی کی تھی۔
لاہور کے مرکزی دفاعی راستے یعنی جی ٹی روڈ پر بھارتی فوج نے واہگہ کی جانب سے پیش قدمی کی بھارتی فوجی دستے واہگہ کے علاقے میں موجود پاکستانی سرحدی دفاع کو پیچھے دھکیلتے ہوئے لاہور کی سمت بڑھے۔
بھارتی فوج کے ابتدائی حملے کو لاہور سیکٹر میں خاصی پیش رفت حاصل ہوئی اور اس کے دستے ڈوگرائی اور بٹاپور تک پہنچ گئے۔ بھارتی فوجی تاریخ کے مطابق 15 انفنٹری ڈویژن کی پیش قدمی کے نتیجے میں اس کے ایک دستے نے بٹاپور تک رسائی حاصل کی۔
صبح تقریباً 9:30 بجے پاک فضائیہ میدان میں آگئی
جنگ کے پہلے روز پاک فضائیہ نے زمینی محاذ پر بھارتی پیش قدمی روکنے کے لیے اہم کردار ادا کیا ایک تاریخی جنگی بیان کے مطابق نمبر 19 اسکواڈرن کو ابتدا میں جسر کے قریب بھارتی توپ خانے کو نشانہ بنانے کا مشن دیا گیا تھا تاہم راستے میں مشن تبدیل کرکے لاہور کی جانب بڑھنے والی بھارتی فوج کو نشانہ بنانے کی ہدایت دی گئی۔
اس کارروائی میں بھارتی فوج کے آگے بڑھنے والے دستوں، گاڑیوں اور ٹینکوں کو فضائی حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ جنگی تاریخوں میں اس کارروائی کو لاہور کے محاذ پر بھارتی پیش قدمی کی رفتار روکنے والے اہم عوامل میں شمار کیا جاتا ہے۔
دوپہر سے پہلے بٹاپور تک پہنچنے کے بعد بھارتی پیش قدمی رک گئی
بھارتی فوج کے ابتدائی حملے نے پاکستانی دفاع کو حیران ضرور کیا، لیکن لاہور کی طرف پیش قدمی مسلسل جاری نہ رہ سکی۔ بٹاپور تک پہنچنے والے بھارتی دستوں کو مزید آگے بڑھنے کے لیے کمک کا انتظار کرنا پڑا، جبکہ پاکستانی فوج نے دفاعی پوزیشنیں مضبوط کرنا شروع کردیں۔
تاریخی تجزیوں کے مطابق پاکستانی فوج نے اس وقفے سے فائدہ اٹھایا اور لاہور کے دفاع کے لیے مزید نفری اور ہتھیار آگے منتقل کیے۔
دوپہر پاکستان میں جنگ کا باقاعدہ احساس
6 ستمبر کی صبح تک یہ واضح ہوچکا تھا کہ لڑائی کشمیر کے محدود محاذ تک نہیں رہی بلکہ بین الاقوامی سرحد بھی جنگ کا میدان بن چکی ہے۔
صدر ایوب خان نے امریکی سفیر سے ملاقات میں لاہور کے اطراف جاری بھارتی کارروائیوں کی تفصیلات بیان کیں۔ اسی روز پاکستان نے عالمی سطح پر بھی اپنی صورتحال سے متعلق سفارتی رابطے تیز کردیے۔ امریکی سفارتی ریکارڈ کے مطابق پاکستانی قیادت نے بھارت کی بڑی فوجی نقل و حرکت اور لاہور کے مختلف محاذوں پر حملوں سے آگاہ کیا۔
جسر میں پاکستانی جوابی کارروائی
جسر کے محاذ پر پاکستانی فوج نے جوابی حملہ کیا۔ دستیاب تاریخی ریکارڈ کے مطابق پاکستانی فورسز نے صبح تقریباً 10 بجے جوابی کارروائی شروع کی اور دوپہر تک بھارتی دستوں کو پیچھے دھکیل دیا۔
بعد میں اس محاذ پر بھارتی فوج کے متعدد اہلکاروں، گاڑیوں اور ہتھیاروں کے نقصان کی اطلاعات سامنے آئیں۔ 7 ستمبر کے اخبارات میں پاکستانی حکام نے جسر سمیت لاہور کے مختلف محاذوں پر بھارتی حملوں کو روکنے کی اطلاع دی تھی۔
واہگہ اور بیڈیاں لاہور کے دفاع کی اصل آزمائش
دن گزرنے کے ساتھ لاہور کے گرد لڑائی مزید شدید ہوگئی۔ واہگہ اور بیڈیاں کے علاقوں میں بھارتی فوج کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے پاکستانی فوج نے دفاعی پوزیشنیں سنبھالیں۔
ڈان کے تاریخی ریکارڈ میں 6 ستمبر کی لڑائی کے بعد پاکستانی حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ واہگہ اور بیڈیاں کے علاقوں میں بھارتی پیش قدمی کو روک دیا گیا تھا اور پاکستانی فوج صورتحال کو مستحکم کرنے میں کامیاب ہوگئی تھی۔
شام جنگ صرف لاہور تک محدود نہ رہی
6 ستمبر کے دوران قصور اور سیالکوٹ سمیت کئی علاقوں میں بھی شدید لڑائی جاری رہی یوں پہلے ہی دن پاک بھارت جنگ نے ایک وسیع محاذ اختیار کرلیا۔
سیالکوٹ کے بڑے ٹینک معرکے کا مرکزی مرحلہ اگلے دنوں میں سامنے آیا جبکہ لاہور قصور اور جسر کے محاذ پہلے ہی دن شدید لڑائی کا مرکز بن چکے تھے سیالکوٹ میں بڑے پیمانے پر بھارتی پیش قدمی 7 اور 8 ستمبر کے دوران مزید نمایاں ہوئی۔
پہلے 24 گھنٹے کا نتیجہ کیا نکلا؟
6 ستمبر 1965 کے پہلے 24 گھنٹوں میں بھارتی فوج نے اچانک بین الاقوامی سرحد عبور کرکے لاہور سمیت متعدد محاذوں پر پیش قدمی کی اور بعض مقامات پر ابتدائی کامیابی حاصل کی۔ لاہور کے قریب بٹاپور تک بھارتی دستوں کی رسائی اس پیش قدمی کی اہم مثال تھی۔
لیکن پاکستانی فوج نے فوری طور پر دفاعی پوزیشنیں سنبھالیں، جسر میں جوابی کارروائی کی اور پاک فضائیہ نے لاہور کی جانب بڑھنے والے بھارتی دستوں پر حملے کرکے ان کی پیش قدمی کی رفتار متاثر کی۔
یوں 6 ستمبر کا پہلا دن محض ایک سرحدی جھڑپ نہیں رہا بلکہ ایک مکمل جنگ کا آغاز بن گیا۔ اگلے دنوں میں یہی جنگ لاہور سیالکوٹ، قصور، چونڈہ، کھیم کرن اور دیگر محاذوں تک پھیل گئی اور بالآخر 23 ستمبر 1965 کو جنگ بندی عمل میں آئی۔