امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون سے حساس اور خفیہ معلومات لیک ہونے کے معاملے کی تحقیقات کے دوران جوائنٹ اسٹاف کے 50 ارکان کے پولی گراف ٹیسٹ لیے گئے ہیں امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق پینٹاگون سے اہم فوجی معلومات منظرعام پر آنے کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا گیا، جس کے تحت خفیہ معلومات تک رسائی رکھنے والے متعدد افسران اور اہلکاروں سے پوچھ گچھ کی گئی۔
ہتھیاروں کے ذخائر سے متعلق معلومات
رپورٹ کے مطابق اہم ہتھیاروں اور گولہ بارود کے ذخائر میں کمی سے متعلق معلومات سامنے آنے کے بعد پینٹاگون حکام نے معاملے کو انتہائی حساس قرار دیتے ہوئے تحقیقات تیز کر دیں،حکام یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ حساس معلومات کہاں سے لیک ہوئیں اور ان معلومات تک رسائی رکھنے والے کن افراد کا اس معاملے سے تعلق ہوسکتا ہے۔
50 ارکان کے پولی گراف ٹیسٹ
تحقیقات کے دوران جوائنٹ اسٹاف کے تقریباً 50 ارکان کے پولی گراف، یعنی جھوٹ پکڑنے والے ٹیسٹ لیے گئے،رپورٹ کے مطابق ان ٹیسٹوں کا مقصد خفیہ معلومات کے ممکنہ ذرائع تک پہنچنا اور یہ معلوم کرنا ہے کہ حساس فوجی معلومات پینٹاگون سے باہر کس طرح پہنچیں۔
جوائنٹ اسٹاف میں 2 ہزار اہلکار
نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی جوائنٹ اسٹاف میں تقریباً 2 ہزار افسران اور اہلکار کام کرتے ہیں، جن میں مختلف فوجی شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں،رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جدید امریکی تاریخ میں پینٹاگون کے اندر اس نوعیت کی تحقیقات اور اتنی بڑی تعداد میں اہلکاروں کی جانچ پڑتال کی مثالیں بہت کم ملتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق خفیہ معلومات لیک ہونے کے معاملے نے پینٹاگون کے اندر بداعتمادی اور شکوک و شبہات کی فضا کو مزید گہرا کر دیا ہے،اہلکاروں کے درمیان یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ تحقیقات کے دائرے میں مزید افراد کو شامل کیا جاسکتا ہے، جبکہ حساس معلومات تک رسائی اور ان کے تحفظ کے حوالے سے بھی سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
قیادت پر بھی سوالات
نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کی قیادت میں پینٹاگون کے اندر پہلے سے موجود تناؤ اور بداعتمادی کے ماحول میں مزید شدت آئی ہے،رپورٹ کے مطابق تحقیقات کے لیے پولی گراف ٹیسٹ کے استعمال نے بھی محکمہ دفاع کے اندرونی ماحول اور اہلکاروں کے درمیان پائے جانے والے خدشات کو نمایاں کر دیا ہے۔
فوجیوں کی سلامتی اولین ترجیح
پینٹاگون نے خفیہ معلومات کے تحفظ کو امریکی فوجیوں کی سلامتی کے لیے انتہائی اہم قرار دیا ہے،محکمہ دفاع کے مطابق حساس فوجی معلومات کا غیر مجاز افشا قومی سلامتی اور بیرون ملک تعینات امریکی فوجیوں کے لیے خطرات پیدا کرسکتا ہے، اسی لیے معلومات لیک ہونے کے معاملے کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے،تحقیقات جاری ہیں اور پینٹاگون کی جانب سے ابھی یہ نہیں بتایا گیا کہ خفیہ معلومات لیک ہونے کے ذمہ دار افراد کے بارے میں کوئی حتمی نتیجہ سامنے آیا ہے یا نہیں۔