امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایران کے 3 آئل ٹینکرز کے خلاف کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی فورسز نے ایرانی تیل بردار بحری جہازوں کو مختلف مقامات پر نشانہ بنایا۔
سینٹ کام کے مطابق ایرانی آئل ٹینکر ڈاؤنی کو جزیرہ خارگ کے قریب کارروائی کرکے ناکارہ بنایا گیا، جبکہ دیگر دو ٹینکرز کے خلاف بھی مختلف مقامات پر کارروائی کی گئی۔
جاسک کے قریب ٹینکر تباہ
امریکی کمانڈ کے مطابق ایرانی آئل ٹینکر اسٹارک 1 کو جاسک کے قریب نشانہ بنا کر تباہ کیا گیا، جبکہ نوکسن نامی ایرانی آئل ٹینکر کو خلیج عمان میں کارروائی کا نشانہ بنایا گیا۔
پاسداران انقلاب سے تعلق کا دعویٰ
سینٹ کام نے دعویٰ کیا کہ تینوں آئل ٹینکرز ایران کے پاسداران انقلاب سے منسلک خفیہ مالیاتی نیٹ ورک کا حصہ تھے اور اس نیٹ ورک کے ذریعے اربوں ڈالر کی مالی سرگرمیاں کی جا رہی تھیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق کارروائی کے دوران امریکی فوجی ایرانی جوابی حملوں سے محفوظ رہے اور کسی امریکی اہلکار کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔
ایرانی میزائل حملہ ناکام
سینٹ کام کا کہنا ہے کہ ایران نے 2 امریکی جنگی بحری جہازوں کو بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم امریکی فورسز نے ان حملوں کو ناکام بنا دیا۔
میزائل حملوں کا جواب
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایرانی آئل ٹینکرز کے خلاف کارروائی ایران کی جانب سے امریکی جنگی بحری جہازوں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کی کوشش کے جواب میں کی گئی۔
ایران کو سخت انتباہ
سینٹ کام نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی بحری جہازوں کو دوبارہ نشانہ بنایا گیا تو اسے بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی،امریکی کمانڈ نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر ایران کے محدود آئل فلیٹ کو مزید نشانہ بنایا جاسکتا ہے، سینٹ کام کے مطابق امریکی افواج اپنے اہلکاروں اور بحری جہازوں کے تحفظ کیلئے ضروری اقدامات جاری رکھیں گی۔