کالعدم انتشاری کمیٹی کی آزاد کشمیر میں 9 ستمبر کو شٹر ڈاؤن کی کال، تاجروں کو دکانیں کھولنے پر دھمکیاں

کالعدم انتشاری کمیٹی کی آزاد کشمیر میں 9 ستمبر کو شٹر ڈاؤن کی کال، تاجروں کو دکانیں کھولنے پر دھمکیاں

آزاد کشمیر میں 9 ستمبر کو شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام کی کال کے بعد تاجروں کو دکانیں کھولنے کی صورت میں سنگین نتائج سے خبردار کیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے بیانات میں تاجروں، شہریوں اور بیرونِ ملک مقیم کشمیریوں سے احتجاج میں بھرپور شرکت کی اپیل کی گئی ہے، جبکہ پورے آزاد کشمیر میں کاروباری سرگرمیاں معطل رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر جاری بیانات میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے 9 ستمبر کو شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام کی کال دی گئی ہے۔ اس احتجاجی کال میں آزاد کشمیر کے مختلف شہروں، دیہات، گلی محلوں اور بازاروں سے شہریوں اور تاجروں کو شرکت کی ہدایت کی گئی ہے۔

9 ستمبر کو کاروبار بند رکھنے کی اپیل

جاری بیان میں تاجروں سے کہا گیا ہے کہ 9 ستمبر کو اپنی دکانیں بند رکھیں اور احتجاجی سرگرمی میں شامل ہوں۔ احتجاج کی کال صرف بڑے شہروں یا مرکزی بازاروں تک محدود رکھنے کے بجائے آزاد کشمیر کے ہر شہر، گاؤں، گلی اور محلے تک پہنچانے کی اپیل کی گئی ہے۔

بیان میں بیرونِ ملک مقیم کشمیریوں سے بھی احتجاج میں یکجہتی کا اظہار کرنے اور اس کال کی حمایت کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ اس طرح احتجاج کو مقامی سطح کے ساتھ ساتھ اوورسیز کشمیریوں تک بھی وسعت دینے پر زور دیا گیا ہے۔

دکان کھولنے والے تاجروں کو’’غدار‘‘ قرار دینے کی دھمکی

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک بیان میں 9 ستمبر کو دکان کھولنے والے تاجروں کو سخت الفاظ میں تنبیہ کی گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جو دکاندار اس روز اپنی دکان کھولے گا، اسے ’’غدار‘‘ قرار دیا جائے گا اور اسے اپنے کاروبار کے حوالے سے خود ذمہ دار سمجھا جائے گا۔

اسی بیان میں تاجروں کو کاروباری سرگرمیاں بند نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج سے بھی خبردار کیا گیا ہے۔ دکانیں کھولنے والے کاروباری افراد کے خلاف اس نوعیت کے الفاظ استعمال کیے جانے پر شہری اور تاجر حلقوں میں تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کالعدم انتشاری کمیٹی کے سرغنہ امان اور مہران ریاست میں بغاوت کا ایجنڈا رکھتے ہیں، سینئر صحافی ابصار عالم کا انکشاف

لانگ مارچ سے پہلے 9 ستمبر کی کال کامیاب بنانے پر زور

کالعدم انتشاری کمیٹی کے کور ممبر خواجہ مہران ایڈووکیٹ نے اپنے بیان میں تاجروں اور شہریوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ لانگ مارچ کی فکر کرنے کے بجائے پہلے 9 ستمبر کی احتجاجی کال کو کامیاب بنائیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اپنے اپنے شہروں، دیہات اور محلوں سے بھرپور یکجہتی کا مظاہرہ کیا جائے اور 9 ستمبر کو احتجاج میں شرکت کی جائے۔ اسی بیان میں مستقبل میں ’’قومی لانگ مارچ‘‘ کی کال دیے جانے کا بھی عندیہ دیا گیا ہے۔

اس پیغام سے ظاہر ہوتا ہے کہ احتجاجی سرگرمیوں کو مرحلہ وار آگے بڑھانے کی بات کی جا رہی ہے، تاہم قومی لانگ مارچ کی حتمی تاریخ یا اس کے حوالے سے مزید تفصیلات بیان میں فراہم نہیں کی گئیں۔

تاجروں کو دھمکیوں پر شہری حلقوں میں تشویش

تاجر برادری کو دکانیں کھولنے کی صورت میں سنگین نتائج سے خبردار کرنے اور کاروبار کرنے والے افراد کو ’’غدار‘‘ قرار دینے کے بیانات پر شہری حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ اختلافِ رائے کا اظہار اور پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے، تاہم کاروباری افراد کو دھمکانا، ان پر غداری کے الزامات عائد کرنا اور انہیں سنگین نتائج سے ڈرانا قابلِ مذمت ہے۔

شہری حلقوں کے مطابق احتجاج اور سیاسی سرگرمیوں کے دوران اختلاف رکھنے والے افراد کے ساتھ بھی ایسا طرزِ عمل اختیار کیا جانا چاہیے جس سے امن و امان اور شہریوں کے کاروباری حقوق متاثر نہ ہوں۔ خاص طور پر تاجروں کے لیے کاروباری سرگرمیوں کی معطلی ایک اہم معاملہ ہے، اس لیے اس حوالے سے کسی بھی فیصلے میں حالات اور شہریوں کے مفادات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

Related Articles