پنجاب میں تعلیمی معیار بہتر بنانے کے لیے صفر فیصد نتائج دینے والے سرکاری اسکولوں کے سربراہان کے خلاف محکمانہ کارروائی کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ محکمہ اسکول ایجوکیشن نے صوبے بھر میں ایسے سرکاری اسکولوں کی تفصیلات طلب کرلی ہیں جہاں حالیہ امتحانات میں کوئی طالب علم کامیاب نہیں ہوسکا۔
محکمہ اسکول ایجوکیشن کی جانب سے حاصل کی جانے والی تفصیلات کی بنیاد پر ناقص تعلیمی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اداروں اور ان کے ذمہ داران کی نشاندہی کی جائے گی۔
راولپنڈی بورڈ کے نتائج
ذرائع کے مطابق راولپنڈی تعلیمی بورڈ کے تحت نویں جماعت کے سالانہ امتحانات میں مجموعی طور پر 184 اسکولوں کا نتیجہ صفر فیصد رہا، ان اداروں میں 81 سرکاری اسکول بھی شامل ہیں،اعداد و شمار کے مطابق راولپنڈی ضلع میں 91 اسکولوں کا نتیجہ صفر فیصد رہا، جبکہ اٹک کے 35 اور چکوال کے 26 اسکول بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔
جہلم اور مری کے اسکول بھی شامل
صفر فیصد نتائج دینے والے اسکولوں میں جہلم کے 24، مری کے 10 جبکہ تلہ گنگ کے 8 اسکول بھی شامل ہیں،محکمہ کی جانب سے ان اعداد و شمار کا جائزہ لے کر ان اسکولوں کی نشاندہی کی جائے گی جہاں مسلسل تعلیمی کارکردگی غیر تسلی بخش رہی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق صفر فیصد نتائج والے اسکولوں کے سربراہان سے جواب طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،متعلقہ افسران اور اسکول سربراہان سے طلبہ کے انتہائی ناقص نتائج کی وجوہات بھی دریافت کی جائیں گی،محکمہ اسکول ایجوکیشن کی جانب سے مسلسل ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اداروں کے ساتھ ساتھ ذمہ دار افسران کی بھی نشاندہی کی جائے گی۔
ناقص نتائج پر محکمانہ کارروائی
ذرائع کے مطابق تحقیقات اور جواب طلبی کے عمل کے بعد تعلیمی نتائج میں غفلت یا ناقص نگرانی کے ذمہ دار قرار پانے والے اسکول سربراہان کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
محکمہ اسکول ایجوکیشن کا مقصد ایسے سرکاری اسکولوں کی کارکردگی بہتر بنانا اور طلبہ کے تعلیمی نتائج میں بہتری لانا ہے، جبکہ مسلسل ناقص کارکردگی کے ذمہ داران کا تعین کرکے ان کے خلاف قواعد کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔