7 ستمبر 1965 کو کیا ہوا تھا؟ آج یومِ فضائیہ کیوں منایا جاتا ہے؟

7 ستمبر 1965 کو کیا ہوا تھا؟ آج یومِ فضائیہ کیوں منایا جاتا ہے؟

پاکستان میں آج 7 ستمبر کو یومِ فضائیہ منایا جا رہا ہے۔ یہ دن 1965 کی جنگ کے دوران پاکستان ایئر فورس کے پائلٹس کی جرأت، پیشہ ورانہ مہارت اور وطن کے دفاع کے لیے دی گئی قربانیوں کی یاد میں منسوب ہے ہر سال اس موقع پر شہدائے فضائیہ اور ان ہوا بازوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے جنہوں نے جنگ کے دوران پاکستانی فضائی حدود کے دفاع میں اہم کردار ادا کیا۔

7 ستمبر 1965 پاکستان کی فضائی تاریخ کا ایک اہم دن اس لیے بھی ہے کہ اسی روز اسکواڈرن لیڈر محمد محمود عالم المعروف ایم ایم عالم نے سرگودھا کے محاذ پر بھارتی فضائیہ کے ہنٹر طیاروں کے خلاف ایک ایسا کارنامہ انجام دیا جس نے انہیں پاکستان کے معروف ترین جنگی ہوا بازوں میں شامل کر دیا۔

7 ستمبر 1965: سرگودھا کے آسمان پر تاریخی معرکہ

1965 کی جنگ کے دوسرے روز بھارتی فضائیہ نے پاکستانی فضائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے مختلف کارروائیاں کیں۔ سرگودھا ایئر بیس اس جنگ میں پاکستان ایئر فورس کا ایک اہم مرکز تھا اور اسے بھارتی فضائی حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔

اسی دوران ایم ایم عالم نے اپنے ایف-86 سیبر طیارے میں جنگی مشن انجام دیا۔ پاکستانی ریکارڈ کے مطابق انہوں نے بھارتی فضائیہ کے پانچ ہنٹر طیارے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں مار گرائے، جن میں چار صرف تقریباً 30 سیکنڈ میں شامل تھے۔ یہ کارنامہ ان کی جنگی زندگی کی سب سے نمایاں شناخت بن گیا۔

ایم ایم عالم کے اس کارنامے کو پاکستان میں فضائی جنگ کی تاریخ کا غیر معمولی واقعہ قرار دیا جاتا ہے۔ سرکاری ریکارڈ اور متعدد پاکستانی ذرائع میں انہیں اس کارروائی کے بعد ’’ایس آف سرگودھا‘‘ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

ایم ایم عالم کون تھے؟

محمد محمود عالم پاکستان ایئر فورس کے ان جنگی پائلٹس میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے 1965 کی جنگ میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی شناخت خاص طور پر 7 ستمبر کے فضائی معرکے سے وابستہ ہوگئی۔

پاکستانی فضائیہ کے مطابق انہوں نے جنگ کے دوران متعدد بھارتی طیارے مار گرائے اور ان کی غیر معمولی کارکردگی نے انہیں پاکستان کے ممتاز جنگی ہوا بازوں میں شامل کر دیا۔

ان کے تاریخی کارنامے پر انہیں ستارۂ جرأت سے نوازا گیا۔ آج بھی پاکستان ایئر فورس کی تاریخ میں ایم ایم عالم کا نام جرأت اور غیر معمولی فضائی مہارت کی علامت کے طور پر لیا جاتا ہے۔

صرف ایم ایم عالم ہی نہیں، کئی پائلٹس نے تاریخ رقم کی

1965 کی جنگ کے دوران پاکستان ایئر فورس کے متعدد پائلٹس نے مختلف محاذوں پر اہم فضائی معرکوں میں حصہ لیا۔ اسکواڈرن لیڈر سرفراز احمد رفیقی، فلائٹ لیفٹیننٹ یونس حسین، سیسل چوہدری اور دیگر ہوا بازوں کے نام بھی ان کارروائیوں کے حوالے سے نمایاں ہیں۔

6 ستمبر کی شام ہلواڑہ کے قریب ہونے والی فضائی کارروائی میں سرفراز رفیقی کی قیادت میں پاکستانی سیبر طیاروں نے بھارتی ہنٹرز کا سامنا کیا۔ اس معرکے میں رفیقی شہید ہوئے، جبکہ ان کے ساتھی پائلٹس نے بھی شدید فضائی مقابلہ کیا۔ مختلف جنگی ریکارڈز میں اس معرکے کی تفصیلات اور بعض فضائی نقصانات کے حوالے سے اختلافات بھی ملتے ہیں۔

7 ستمبر کو سرفراز بیس سمیت اہم اہداف پر حملے

7 ستمبر کو بھارتی فضائیہ نے سرگودھا کے فضائی اڈے کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ پاکستانی فضائیہ نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے بھارتی فضائی حملوں کا مقابلہ کیا۔

اسی روز پاکستانی ایف-86 سیبر طیاروں نے بھارتی فضائی اڈوں کے خلاف کارروائیاں بھی کیں۔ 1965 کی فضائی جنگ کے ریکارڈ کے مطابق دونوں جانب سے متعدد فضائی حملے اور جوابی کارروائیاں ہوئیں اور جنگ کے دوران فضائی برتری کے حصول کے لیے شدید مقابلہ جاری رہا۔

امجد حسین کا غیر معمولی واقعہ

7 ستمبر کے فضائی معرکوں میں فلائٹ لیفٹیننٹ امجد حسین خان کا واقعہ بھی پاکستان ایئر فورس کی جنگی تاریخ میں بیان کیا جاتا ہے۔

وہ ایف-104 اسٹار فائٹر پر ایک بھارتی طیارے کا تعاقب کرتے ہوئے اپنے طیارے سے باہر نکلنے پر مجبور ہوئے۔ پاکستانی روایت میں اس واقعے کو ایک غیر معمولی جنگی مشن کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ تاہم اس معرکے کے نتیجے اور دونوں طیاروں کے نقصان کے حوالے سے بھارتی اور پاکستانی جنگی ریکارڈز میں اختلاف پایا جاتا ہے۔

1965 کی جنگ میں پاک فضائیہ کے پاس کون سے طیارے تھے؟

1965 کی جنگ کے وقت پاکستان ایئر فورس کے بیڑے میں ایف-86 سیبر، ایف-104 اسٹار فائٹر اور بی-57 کینبرا سمیت مختلف جنگی طیارے شامل تھے۔

ایف-86 سیبر اس جنگ میں پاکستان کے اہم جنگی طیاروں میں شامل تھا، جبکہ ایف-104 اسٹار فائٹر اپنی رفتار اور جدید ٹیکنالوجی کے باعث خصوصی اہمیت رکھتا تھا۔ دوسری جانب بھارتی فضائیہ کے پاس ہنٹر، گناٹ، مِسٹری اور دیگر طیارے موجود تھے۔

یومِ فضائیہ کیوں منایا جاتا ہے؟

6 ستمبر کو یومِ دفاع کے بعد 7 ستمبر یومِ فضائیہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد 1965 کی جنگ میں پاکستان ایئر فورس کے کردار کو یاد کرنا، شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنا اور ملک کے دفاع میں فضائیہ کی خدمات کو اجاگر کرنا ہے۔

پاکستان ایئر فورس نے گزشتہ برسوں میں بھی 7 ستمبر کو مختلف تقریبات کے ذریعے اپنے شہداء اور جنگی ہیروز کو یاد کیا ہے۔ 2025 میں پی اے ایف نے 7 ستمبر کو یومِ شہداء کے طور پر اپنے تمام اڈوں پر خصوصی تقریبات منعقد کی تھیں۔

آج کے دور میں پاک فضائیہ

یومِ فضائیہ صرف 1965 کی جنگ کی یاد تک محدود نہیں بلکہ پاکستان ایئر فورس کی موجودہ پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے آج یومِ فضائیہ کے موقع پر اپنے پیغام میں پاک فضائیہ کے تمام رینکس کی پیشہ ورانہ کارکردگی اور ملکی دفاع میں کردار کو سراہا ہے۔

حالیہ برسوں میں پاک فضائیہ نے جدید جنگی طیاروں، فضائی نگرانی، ڈرون ٹیکنالوجی، جدید ہتھیاروں اور نیٹ ورک سینٹرک جنگی صلاحیتوں پر بھی توجہ بڑھائی ہے۔ یوں 1965 کے سیبر طیاروں سے لے کر جدید دور کے جنگی نظام تک پاک فضائیہ کا سفر کئی دہائیوں پر محیط تکنیکی اور پیشہ ورانہ ارتقا کی داستان ہے۔

7 ستمبر کا سب سے بڑا سبق

یومِ فضائیہ کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ قومی دفاع صرف جدید ہتھیاروں سے نہیں بلکہ تربیت، پیشہ ورانہ مہارت، نظم و ضبط، بروقت فیصلہ سازی اور جان کی قربانی دینے کے جذبے سے مضبوط ہوتا ہے۔

1965 کے فضائی معرکوں میں حصہ لینے والے پائلٹس اور فضائیہ کے اہلکاروں کی داستانیں آج بھی پاکستان کی عسکری تاریخ کا اہم حصہ ہیں۔ خصوصاً ایم ایم عالم کا 7 ستمبر کا کارنامہ اس دن کی سب سے نمایاں یادوں میں شمار ہوتا ہے۔

آج یومِ فضائیہ کے موقع پر قوم ان تمام شہداء اور غازیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے جنہوں نے ملکی فضائی حدود کے دفاع میں اپنی جانیں قربان کیں یا غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کیا۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles