دنیا کیلئے خطرے کی گھنٹی ! پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کہاں پہنچنے والی ہیں؟ پیشگوئی آگئی

دنیا کیلئے خطرے کی گھنٹی ! پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کہاں پہنچنے والی ہیں؟ پیشگوئی آگئی

مشرق وسطیٰ میں  بڑھتی کشیدگی نے عالمی تیل مارکیٹ کے لیے ایک اور بڑا خطرہ پیدا کردیا ہے کیونکہ  اگر تجارتی بحری جہازوں پر حملوں کا سلسلہ مزید بڑھا تو خام تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

معروف امریکی مالیاتی ادارے گولڈمین سیکس نے اس ممکنہ صورتحال سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں بحری جہازوں کی آمدورفت متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے ، اگر حملوں کا دائرہ وسیع ہوا اور شدت میں اضافہ ہوا تو تیل کی عالمی سپلائی بھی متاثر ہوسکتی ہے۔

یہ صورتحال صرف عالمی توانائی مارکیٹ تک محدود نہیں رہے گی بلکہ  تیل مہنگا ہونے کی صورت میں عام صارف بھی اس کے اثرات محسوس کرسکتا ہے، کیونکہ پٹرول، ڈیزل، ٹرانسپورٹ، بجلی اور دیگر اشیا کی قیمتوں پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔

بحری جہازوں پر حملوں نے خطرہ بڑھا دیا

گولڈمین سیکس کے عالمی اجناس کے شعبے کے شریک سربراہ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ گزشتہ چند روز کے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بحری جہازوں کی ترسیل میں رکاوٹ کا خطرہ پھیل سکتا ہے اور اس کی شدت میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔

مشرق وسطیٰ سے تیل کی ترسیل کے اہم سمندری راستوں میں پہلے ہی کشیدگی پائی جاتی ہے ، ایسے میں تجارتی بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ عالمی توانائی سپلائی کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن سکتا ہے ، اگر تیل کی نقل و حمل متاثر ہوتی ہے تو عالمی مارکیٹ میں سپلائی کم ہونے کا خدشہ پیدا ہوگا ،  نتیجتاً طلب اور رسد کا دباؤ خام تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے جاسکتا ہے۔

120 ڈالر فی بیرل تک قیمت جانے کا خدشہ

گولڈمین سیکس کے خدشے نے عالمی توانائی مارکیٹ میں ممکنہ قیمتوں پر نئی بحث چھیڑ دی ہے،  ادارے کے مطابق اگر بحری جہازوں پر حملے مزید وسیع اور شدید ہوئے تو خام تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

یہ سطح عالمی معیشت کے لیے اہم ثابت ہوسکتی ہے ، خصوصاً ان  ممالک کیلئے جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے درآمدی تیل پر زیادہ انحصار کرتے ہیں،  بڑھتی ہوئی قیمتوں کا زیادہ سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : بجلی کا بل اچانک بڑھ گیا ؟ میٹر بدلوانے سے پہلے یہ کام ضرور کرلیں

پاکستان جیسے ممالک میں عالمی تیل قیمتوں میں نمایاں اضافہ براہ راست عوامی زندگی کو متاثر کرسکتا ہے،  پیٹرول اور ڈیزل مہنگے ہونے سے سفر اور مال برداری کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں، جبکہ اس کے اثرات دیگر اشیا تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔

قدرتی گیس اور ڈیزل میں سرمایہ کاری 

موجودہ صورتحال کے درمیان گولڈمین سیکس نے سرمایہ کاروں کے لیے قدرتی گیس اور ڈیزل کو ایسے شعبوں کے طور پر بھی تجویز کیا ہے جہاں موجودہ حالات سے ممکنہ فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے تاہم عالمی مارکیٹ کی سمت کا انحصار آئندہ دنوں میں کشیدگی کی شدت اور بحری راستوں سے تیل کی ترسیل پر ہوگا۔

عام صارف پر اثر

خام تیل کی قیمت میں اضافہ صرف عالمی مارکیٹ کی خبر نہیں بلکہ  اس کا تعلق براہ راست عام صارف کی جیب سے بھی ہے ، تیل مہنگا ہونے سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے اس کے بعد ٹرانسپورٹ کے اخراجات، بجلی اور مختلف اشیا کی ترسیل کی لاگت بھی متاثر ہوسکتی ہے۔

عالمی توانائی مارکیٹ 

مجموعی طور پر مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اب صرف علاقائی مسئلہ نہیں رہی بلکہ عالمی توانائی مارکیٹ کے لیے بھی خطرے کی شکل اختیار کررہی ہے ، خام تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کا خدشہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحری راستوں کی سلامتی عالمی تیل سپلائی کے لیے کتنی اہم ہے۔

editor

Related Articles