موٹر سائیکل سواروں کے لیے اہم خوشخبری، ’ایکسائز نمبر پلیٹ‘ کی فیس ختم

موٹر سائیکل سواروں کے لیے اہم خوشخبری، ’ایکسائز نمبر پلیٹ‘ کی فیس ختم

سٹی ٹریفک پولیس فیصل آباد نے موٹر سائیکل سواروں کو بڑی سہولت دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ محکمہ ایکسائز کی جانب سے جاری کردہ نمبر پلیٹس کی مد میں اب کوئی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔

شہری محکمے کے مقرر کردہ سائز اور معیار کے مطابق اب خود اپنی موٹر سائیکلوں کی نمبر پلیٹس تیار کروا سکتے ہیں تاکہ ای چالان اور قانونی کارروائی سے بچا جا سکے۔

سٹی ٹریفک پولیس فیصل آباد نے سماجی رابطوں کے پلیٹ فارمز پر شہریوں کے لیے ایک اہم معلوماتی اور ہدایت نامہ جاری کیا ہے۔

اس اپ ڈیٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ نمبر پلیٹ کے حصول کے لیے شہریوں کو اب سرکاری فیس ادا کرنے یا طویل انتظار کی زحمت اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:250 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار والی موٹر سائیکل ’نورٹون مینکس آر‘ متعارف، مارکیٹ میں دھوم

انتظامیہ کے مطابق عوام کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ محکمہ ایکسائز کی جانب سے وضع کردہ مخصوص فارمیٹ کے عین مطابق اپنی نمبر پلیٹس خود تیار کروا لیں۔

اس اقدام کا مقصد شہریوں کو سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ٹریفک قوانین پر ان کی سو فیصد عمل داری کو یقینی بنانا ہے۔

مقرر کردہ سائز اور پیمائش کا معیار

پولیس کی جانب سے شیئر کی گئی گائیڈ لائنز کے مطابق، موٹر سائیکل کی نمبر پلیٹ کا سفید دھات پر بنا ہونا لازمی ہے جس پر کالے رنگ کے ابھرے ہوئے حروف اور ہندسے واضح طور پر نظر آنے چاہییں۔ محکمے نے 2 مختلف سائز مقرر کیے ہیں۔

مستطیل نما پلیٹ کا سائز 205 ضرب 70 ملی میٹر ہونا چاہیے۔

چوکور پلیٹ کا سائز 200 ضرب 170 ملی میٹر مقرر کیا گیا ہے۔

مزید برآں ہدایات میں واضح کیا گیا ہے کہ نمبر پلیٹ کے چاروں اطراف (اوپر، نیچے، دائیں اور بائیں) 10 ملی میٹر کا مارجن چھوڑنا لازمی ہے۔

مزید پڑھیں:تیز رفتاری کے باعث موٹر سائیکل سوار کی ہلاکت، ٹریفک وارڈن کی مدعیت میں مقدمہ درج

مستطیل نما پلیٹ پر لکھے گئے حروف اور ہندسوں کی اونچائی 30 سے 35 ملی میٹر کے درمیان ہونی چاہیے، جبکہ چوکور پلیٹ کی صورت میں یہ اونچائی 45 سے 50 ملی میٹر تک ہونی چاہیے۔

غیر نمونہ پلیٹس کے خلاف انتباہ

سٹی ٹریفک پولیس فیصل آباد نے موٹر سائیکل مالکان کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ صرف مقررہ سائز اور تصریحات پر عمل کریں اور کسی بھی قسم کی غیر معیاری، فینسی یا غیر نمونہ نمبر پلیٹس کے استعمال سے گریز کریں۔

حکام نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ قانون کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے اور دوسروں کے محفوظ سفر کو یقینی بنائیں۔

غیر معیاری پلیٹس اور سیکیورٹی خدشات

گزشتہ چند برسوں کے دوران فیصل آباد سمیت ملک بھر میں فینسی اور غیر واضح نمبر پلیٹس کے رجحان میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ایسی نمبر پلیٹس کی وجہ سے نہ صرف سیف سٹی کیمروں کے ذریعے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کا سراغ لگانا مشکل ہو جاتا ہے، بلکہ جرائم پیشہ عناصر بھی واردات کے بعد باآسانی فرار ہو جاتے ہیں۔

اس سے قبل شہریوں کی جانب سے یہ شکایت عام تھی کہ محکمہ ایکسائز کی جانب سے سرکاری نمبر پلیٹس کے اجرا میں مہینوں کی تاخیر ہوتی ہے اور فیس بھی وصول کی جاتی ہے۔ اب اس نئے اقدام سے ان تمام رکاوٹوں کو ختم کر دیا گیا ہے۔

قانون کی حکمرانی اور عوام کی سہولت کا بہترین امتزاج

اس پیش رفت پر اگر ایک ٹریفک اور سیکیورٹی امور کے ماہر کے طور پر تجزیہ کیا جائے، تو یہ سٹی ٹریفک پولیس کا ایک انتہائی دانشمندانہ اور حقیقت پسندانہ قدم ہے۔

یہ بھی پڑھیں:گاڑی اور موٹر سائیکل چلانے والوں کے لیے پیٹرول سے متعلق بڑی خبر

عموماً جب پولیس غیر معیاری نمبر پلیٹس کے خلاف کریک ڈاؤن کرتی تھی، تو شہریوں کا سب سے بڑا عذر یہی ہوتا تھا کہ سرکاری پلیٹ ملنے میں تاخیر اور فیس کے مسائل ہیں۔

فیس کا خاتمہ اور خود پلیٹ تیار کروانے کی اجازت دے کر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شہریوں کے پاس موجود آخری عذر بھی ختم کر دیا ہے۔

اس سے جہاں ایک طرف سمارٹ ٹریفک مینجمنٹ اور ای چالان کے نظام کو موثر بنانے میں مدد ملے گی، وہیں جرائم کی شرح کو کنٹرول کرنے میں بھی خاطر خواہ کامیابی حاصل ہوگی۔

Related Articles