چینی سائنس دانوں نے ٹک کے کاٹنے سے انسانوں میں منتقل ہونے والا ایک نیا وائرس دریافت کرلیا ہے، جو بخار، فلو جیسی علامات، شدید تھکن، پٹھوں میں درد اور معدے و آنتوں کی تکالیف کا سبب بن سکتا ہے۔
رواں ہفتے نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق نئے وائرس کو ایشین لانگ ہارنڈ ٹک نائیرو وائرس کا نام دیا گیا ہے، جو آرتھونائیرو وائرس گروپ سے تعلق رکھتا ہے۔
تحقیق کے دوران بعض متاثرہ مریضوں میں خون کے پلیٹ لیٹس کی تعداد کم ہونے کے ساتھ جگر کے خلیوں میں نقصان یا سوزش کے شواہد بھی سامنے آئے۔ چینی محققین نے ٹک کے کاٹنے کے بعد پراسرار بیماریوں کا شکار ہونے والے 3 ہزار 163 مریضوں کے خون کے نمونوں کا جائزہ لیا۔ ان میں سے تقریباً 10.4 فیصد مریضوں میں نئے وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔
کئی سال سے پراسرار کیسز کا معمہ
ماہرین کے مطابق چین میں 2009 سے ایسے مریضوں کی نگرانی کی جا رہی تھی جن میں شدید بخار اور خون میں پلیٹ لیٹس کی کمی جیسی غیر معمولی علامات پائی جاتی تھیں۔
ابتدائی طور پر ان میں سے متعدد کیسز کو ڈابی بینڈا وائرس( ڈی بی وی) سے منسلک کیا گیا، تاہم مزید جینیاتی اور لیبارٹری ٹیسٹ کے بعد معلوم ہوا کہ بعض مریضوں میں ایک مختلف وائرس موجود تھا، جسے اب ایشین لانگ ہارنڈ ٹک نائیرو وائرس کا نام دیا گیا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ جن مریضوں میں اے ایل ٹی این وی اور (ڈی بی وی) دونوں وائرس موجود تھے، ان میں سانس لینے میں دشواری اور گردوں سے متعلق پیچیدگیوں کا خطرہ زیادہ تھا۔ ایسے مریضوں میں 7 افراد، یعنی تقریباً 18.4 فیصد، دوران تحقیق جان کی بازی ہار گئے۔
فلو جیسی علامات، مگر احتیاط ضروری
ماہرین کے مطابق اے ایل ٹی این وی انفیکشن کی ابتدائی علامات فلو سے ملتی جلتی ہوسکتی ہیں، جن میں بخار، جسم میں درد، تھکن اور بعض اوقات سانس لینے میں دشواری شامل ہے۔
تاہم محققین نے واضح کیا کہ صرف اے ایل ٹی این وی انفیکشن کو شدید خون بہنے یا اموات کی براہ راست وجہ قرار نہیں دیا گیا۔ جن مریضوں میں ہلاکتیں ہوئیں، ان میں ڈی بی وی کا انفیکشن بھی موجود تھا۔
فی الحال نئے وائرس کے علاج کے لیے کوئی مخصوص اینٹی وائرل دوا یا ویکسین دستیاب نہیں۔ ایسے مریضوں کو عموماً علامات کے مطابق طبی نگہداشت فراہم کی جاتی ہے۔
ماہرین نے یہ بھی واضح کیا کہ وائرل انفیکشن میں بلا ضرورت اینٹی بایوٹکس کا استعمال فائدہ مند نہیں، کیونکہ اینٹی بایوٹکس وائرس کے بجائے بیکٹیریا کے خلاف مؤثر ہوتی ہیں۔
ٹک سے کیسے بچا جائے؟
ماہرین نے ٹک سے بچاؤ کے لیے بیرونی سرگرمیوں کے دوران لمبی پتلون پہننے، پتلون کو جرابوں میں ڈالنے اور مناسب ٹک ریپیلنٹ استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
باہر سے واپس آنے کے بعد جسم اور کپڑوں پر ٹک کی موجودگی بھی چیک کرنی چاہیے۔ ماہرین کے مطابق ٹک کو جلد سے جلد ہٹانا اہم ہے، کیونکہ ٹک جتنے زیادہ وقت تک جلد سے چمٹا رہے، انفیکشن منتقل ہونے کا خطرہ اتنا ہی بڑھ سکتا ہے۔