جاپان کے تاریخی شہر کنزاوا میں ماہر کاریگر برف کے بڑے بڑے بلاکس کو نہایت مہارت سے تراش کر ایسے خوبصورت اور شفاف ٹکڑوں میں تبدیل کرتے ہیں، جو مختلف مشروبات کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور جس کو داد دیے بنا انسان رہ نہیں سکتا۔
یہ کاریگر جاپانی کمپنی کُراموتو آئس سے وابستہ ہیں، جو تقریباً ایک صدی سے ایشیکاوا کے علاقے میں پریمیم معیار کی برف تیار کر رہی ہے۔
جاپان میں ایسی انتہائی شفاف اور اعلیٰ معیار کی برف تیار کرنے والی درجنوں کمپنیاں موجود ہیں۔
کمپنی کے سربراہ باس کُراموتو برف کو ہزاروں کلومیٹر دور دنیا کے مختلف ممالک تک پہنچانے کے ماحولیاتی اثرات سے آگاہ ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ ان کی مصنوعات جیسی چھوٹی اشیا کی ترسیل کا مجموعی ماحولیاتی اثر نسبتاً کم ہے۔
کُراموتو نے بتایا کہ ایک دہائی سے زائد عرصہ قبل لاس ویگاس کے دورے کے دوران انہوں نے امریکی بارز تک اپنی برف پہنچانے کا خواب دیکھا تھا , وہاں انہوں نے مہنگے کاک ٹیلز میں کم معیار کی ایسی برف استعمال ہوتے دیکھی جو تیزی سے پگھل کر مشروب کا ذائقہ متاثر کر دیتی تھی۔
اس طریقے میں پانی کو مکمل طور پر جمنے میں 48 سے 72 گھنٹے لگتے ہیں، جبکہ عام گھریلو برف چند گھنٹوں اور صنعتی مشینوں میں تقریباً 30 منٹ میں تیار ہو جاتی ہے۔
جمنے کے عمل کے دوران پانی میں موجود مختلف ذرات اور آلودگیاں برف کے مرکز کی جانب منتقل ہو جاتی ہیں، ماہرین اس پانی کو نکال کر تازہ پانی شامل کرتے ہیں، جبکہ مسلسل ہلانے سے ہوا کے بلبلے بھی ختم ہو جاتے ہیں۔
اس عمل کے نتیجے میں انتہائی شفاف برف تیار ہوتی ہے جسے جاپانی زبان میں ’جن پیو‘ کہا جاتا ہے۔
جاپان میں برف تیار کرنے کا روایتی اور وقت طلب طریقہ اب بھی استعمال کیا جاتا ہے، جس سے نسبتاً زیادہ شفاف اور اعلیٰ معیار کی برف تیار ہوتی ہے، تاہم امریکا میں یہ طریقہ بڑی حد تک ختم ہوچکا ہے۔