سیاسی جماعتیں اتفاقِ رائے سے نئے صوبوں کا حل نکال سکتی ہیں: اختیار ولی

سیاسی جماعتیں اتفاقِ رائے سے نئے صوبوں کا حل نکال سکتی ہیں: اختیار ولی

مسلم لیگ ن کے رہنما اختیار ولی خان نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کے معاملے پر سیاسی جماعتیں مل بیٹھ کر سنجیدہ بحث کریں تو مسئلے کا حل نکل سکتا ہے، تاہم ضروری نہیں کہ نئے صوبے ہی بنائے جائیں۔

آزاد ڈیجیٹل کے پوڈکاسٹ کی میزبانی کرتے ہوئے سلمان درانی نے اختیار ولی خان سے نئے صوبوں کے معاملے، پاکستان پیپلز پارٹی کے مؤقف اور خیبرپختونخوا کی سیاسی صورتحال سمیت مختلف امور پر گفتگو کی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے سندھ کی تقسیم کی مخالفت کے حوالے سے سوال پر اختیار ولی خان نے کہا کہ ان کے خیال میں ماں ایک ہی ہوتی ہے اور ان کی ماں پاکستان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ باقی صوبے بھی مقدم ہیں، تاہم پاکستان سب سے بڑی ماں ہے۔

اختیار ولی خان نے سندھ میں حکمرانی کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بینظیر بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو کی روح بھی یہ سوال کررہی ہوگی کہ سندھ اور کراچی کو کیا دیا گیا۔ انہوں نے کراچی میں موبائل، موٹرسائیکل چوری، صنعت کار کے بیٹے کے اغوا اور کچے کے علاقوں میں لوگوں کے اٹھائے جانے کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ یہ گورننس کے مسائل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبوں کی آبادی بڑھ چکی ہے، تاہم پنجاب میں ایسی صورتحال نہیں جہاں کسی علاقے میں حکومتی عملداری نہ ہونے یا پرائیویٹ ملیشیا کے موجود ہونے کی بات کی جائے۔ ان کے مطابق پنجاب اور پنجاب کی وزیراعلیٰ کو تمام صوبوں کے مقابلے میں بہتر گورننس پر کریڈٹ دینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کرسی بچانے کیلئے احتجاج کی کال دی، خواجہ آصف

خیبرپختونخوا کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے اختیار ولی خان نے کہا کہ ان کے خیال میں نارکوٹکس، دہشت گردی، اغوا، اسمگلنگ اور قبضہ مافیا کے درمیان باقاعدہ نیکسس بنا ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرداری نظام بعض جگہوں پر سیاسی جماعتوں سے زیادہ مضبوط ہے، جبکہ بلوچستان اور سندھ میں بھی گورننس کے حوالے سے مسائل موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کا ووٹ بینک ٹوٹ رہا ہے اور لوگ ان سے نالاں ہورہے ہیں، تاہم ان کے بقول مسلم لیگ ن نے پی ٹی آئی سے ٹوٹنے والے لوگوں کو اپنے ساتھ ملانے کے لیے سنجیدگی سے کام نہیں کیا۔

اختیار ولی خان نے دعویٰ کیا کہ اگر ان کی جماعت انہیں پی ٹی آئی کے خلاف کام کرنے کا ٹاسک دیتی تو آج پی ٹی آئی شاید آدھی بھی نہ رہتی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس تنظیم، نوجوان، آرگنائزیشنل سیٹ اپ، سوشل ایکسیپٹنس اور سیاسی قبولیت موجود ہے۔

خیبرپختونخوا کے وزرائے اعلیٰ کی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے اختیار ولی خان نے کہا کہ ان کے خیال میں سب ایک جیسے ہیں اور کسی کے پاس تعلیم، پولیس، صحت، سڑکوں یا زراعت کے حوالے سے کوئی وژن نہیں۔

27 ستمبر کی ممکنہ سیاسی سرگرمی کے حوالے سے اختیار ولی خان نے کہا کہ ان کے خیال میں پاکستان تحریک انصاف نے ’’گندا پلان‘‘ بنایا ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی پالیسی رہی ہے کہ جب تک خون نہیں بہے گا اور قتل و مقاتلے نہیں ہوں گے، انارکی نہیں پھیلے گی۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا سے اسلحہ آنے کی بات وہ پہلے بھی کرچکے ہیں اور ان کے مطابق پی ٹی آئی انارکی پھیلانے میں کسی بھی حد تک جاسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی تیاری دیکھ کر اسی کے مطابق تیاری کی جائے گی اور اگر کوئی پلان بنایا گیا تو اسی کے مطابق اسے ڈیل کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کا اہم فیصلہ، کسانوں، چھوٹے کاروبار اور ’اپنا گھر‘ سکیم کے لیے قرضوں کی فوری فراہمی کا حکم

اختیار ولی خان نے پاکستان تحریک انصاف کے حوالے سے کہا کہ پارٹی میں بعض ایسے لوگ موجود ہیں جنہیں حالات سے کچھ سیکھنے کا موقع ملا ہے۔ انہوں نے بیرسٹر گوہر، بیرسٹر علی ظفر، حامد خان، عمر نیازی، ثناء اللہ مستی خیل، عمر ڈوگر، علی محمد خان اور اسد قیصر کے نام لیتے ہوئے کہا کہ اگر ایسے لوگوں کو مذاکرات اور فیصلہ سازی کا اختیار دیا جائے تو یہ ملک اور جماعت دونوں کے لیے اچھا ہوسکتا ہے۔

نئے صوبوں کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے اس بحث کو اسمبلی میں لاکر ایک سنجیدہ بحث شروع کی ہے۔ ان کے مطابق آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نے اس معاملے پر ابھی اپنی سپیس چھوڑی ہوئی ہے۔

اختیار ولی خان نے کہا کہ آصف علی زرداری اچھے مذاکرات کار ہیں اور وہ اپنی توانائی ضائع نہیں کرتے۔ ان کے مطابق زرداری ہر آفت اور مصیبت کو کاؤنٹر اور ڈیل کرنا جانتے ہیں۔

ریفرنڈم اور گورنر راج کے حوالے سے سوال پر اختیار ولی خان نے کہا کہ دونوں آئینی چیزیں ہیں اور آئین پاکستان میں ان کی گنجائش موجود ہے، تاہم جمہوری لوگ ہمیشہ انہیں ناپسند کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ شاید اس کی نوبت آئے گی۔

اختیار ولی خان نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو ایسے معاملات پر میز کے گرد بیٹھ کر بات کرنی چاہیے اور چیزوں کو تفصیل سے زیر بحث لانا چاہیے، کیونکہ اس طرح حل نکل سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ضروری نہیں کہ صوبے بنائے جائیں، موجودہ نظام اور اداروں کو بھی بااختیار بنایا جاسکتا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ سیاسی رابطوں کے حوالے سے اختیار ولی خان نے کہا کہ اسمبلی کے اندر ان کی جماعت کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ ہے، جبکہ بعض اوقات کھانے یا چائے پر بھی ملاقات ہوجاتی ہے اور ٹاک شوز میں بھی اکٹھے بیٹھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان اور ان کی جماعت ضرورت کے مطابق جمہوریت اور سول سپرمیسی کی بات کرتے ہیں اور ان کے خیال میں عمران خان نے یو ٹرن لینے میں اپنی مثال قائم کی ہے۔

Related Articles