معروف مذہبی اسکالر ڈاکٹر اسرار احمد کا تقریباً تین دہائیاں پرانا ایک ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر ایک بار پھر تیزی سے گردش کرنے لگا ہے، جس میں وہ پاکستان کے انتظامی مسائل کے حل کے لیے چھوٹے صوبوں کے قیام کی ضرورت پر گفتگو کرتے دکھائی دیتے ہیں موجودہ دور میں ملک میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق جاری بحث کے باعث پرانا بیان دوبارہ عوام کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
پرانی ویڈیو دوبارہ وائرل
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں ڈاکٹر اسرار احمد ملکی انتظامی مسائل اور صوبوں کے حجم سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے چھوٹے صوبوں کے قیام کو ایک ممکنہ حل قرار دیتے ہیں۔
ویڈیو میں ان سے منسوب بیان کے مطابق ملک کو درپیش مسائل کا مؤثر حل بڑے انتظامی یونٹس کے بجائے چھوٹے صوبوں کے قیام میں تلاش کیا جانا چاہیے،یہ ویڈیو ایسے وقت میں دوبارہ سامنے آئی ہے جب پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ سیاسی، عوامی اور انتظامی سطح پر ایک مرتبہ پھر زیر بحث ہے۔
نئے صوبوں کی بحث
پاکستان میں کئی برس سے مختلف علاقوں کو الگ صوبائی حیثیت دینے کا مطالبہ سامنے آتا رہا ہے، مختلف سیاسی حلقے اور شہری انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بنانے کی تجاویز پیش کرتے رہے ہیں۔
حامیوں کا مؤقف ہے کہ موجودہ بڑے صوبوں میں آبادی اور رقبے کے اعتبار سے انتظامی ذمہ داریاں بہت زیادہ ہیں، جس کے باعث دور دراز علاقوں تک حکومتی اداروں اور بنیادی سہولتوں کی مؤثر رسائی ایک چیلنج بن جاتی ہے،ان کے مطابق اگر انتظامی یونٹس چھوٹے ہوں تو حکومت کے لیے عوام تک پہنچنا، وسائل کی تقسیم بہتر بنانا اور مقامی مسائل پر فوری توجہ دینا نسبتاً آسان ہوسکتا ہے۔
عوامی مسائل کا معاملہ
نئے صوبوں کے قیام کے حامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بڑے صوبوں میں بعض علاقوں کو یہ شکایت رہتی ہے کہ ان کے مسائل فیصلہ سازی کے مراکز تک بروقت نہیں پہنچ پاتے، عوامی حلقوں کے مطابق الگ صوبائی انتظام قائم ہونے کی صورت میں مقامی سطح پر انتظامی ڈھانچہ مضبوط ہوسکتا ہے اور تعلیم، صحت، روزگار، انفرااسٹرکچر اور دیگر بنیادی سہولتوں سے متعلق منصوبہ بندی زیادہ مؤثر انداز میں کی جاسکتی ہے۔
مختلف علاقوں میں مطالبات
ملک کے مختلف حصوں میں نئے صوبوں کے قیام کے مطالبات ماضی میں بھی سامنے آتے رہے ہیں، جنوبی پنجاب، ہزارہ، اندرون سندھ اور دیگر علاقوں سے متعلق بھی مختلف اوقات میں الگ انتظامی اکائیوں کے مطالبات کیے جاتے رہے ہیں۔حامیوں کا کہنا ہے کہ نئے صوبوں کا قیام کسی علاقے یا زبان کی بنیاد پر تقسیم کے بجائے انتظامی سہولت اور عوام کو بہتر حکمرانی فراہم کرنے کے مقصد سے ہونا چاہیے۔
تین دہائیاں پہلے کا مؤقف
ڈاکٹر اسرار احمد کی زیر گردش ویڈیو کے حوالے سے سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ جو بات انہوں نے کئی دہائیاں قبل انتظامی مسائل کے تناظر میں کی تھی، آج وہی معاملہ ملک میں ایک مرتبہ پھر اہم بحث بن چکا ہے،ویڈیو شیئر کرنے والے صارفین اسے موجودہ حالات سے جوڑتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کررہے ہیں کہ پاکستان میں چھوٹے انتظامی یونٹس کی ضرورت کے بارے میں ڈاکٹر اسرار احمد کا پرانا تجزیہ آج کے حالات میں بھی قابل غور ہے۔
عملدرآمد نہ ہوسکا
نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ پاکستان میں طویل عرصے سے سیاسی بحث کا حصہ رہا ہے، تاہم مختلف ادوار میں اس حوالے سے مطالبات اور تجاویز سامنے آنے کے باوجود ملک میں بڑے پیمانے پر نئے صوبوں کے قیام پر اتفاق رائے پیدا نہیں ہوسکا،اس معاملے میں آئینی، سیاسی، انتظامی اور مالی پہلو بھی اہم حیثیت رکھتے ہیں، جنہیں کسی بھی فیصلے سے قبل زیر غور لانا ضروری ہوگا۔
بحث پھر تیز
موجودہ حالات میں نئے صوبوں کے مطالبات ایک بار پھر زیر بحث آنے کے ساتھ ڈاکٹر اسرار احمد کی پرانی ویڈیو نے بھی سوشل میڈیا پر نئی توجہ حاصل کرلی ہےویڈیو کے حوالے سے جاری بحث میں ایک طرف صارفین ڈاکٹر اسرار احمد کے مؤقف کو موجودہ صورتحال سے جوڑ رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب نئے صوبوں کے قیام کے عملی، آئینی اور انتظامی پہلو بھی قومی سطح پر بحث کا موضوع بن رہے ہیں۔
یوں تقریباً 30 سال پرانا ایک بیان موجودہ دور کی سیاسی و انتظامی بحث کے ساتھ دوبارہ جڑ گیا ہے اور ڈاکٹر اسرار احمد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہورہی ہے۔