امریکہ کا مشرق وسطیٰ میں اپنے فوجی اہلکاروں اور تنصیبات کی تعداد کم کرنےپر غور

امریکہ کا مشرق وسطیٰ میں اپنے فوجی اہلکاروں اور تنصیبات کی تعداد کم کرنےپر غور

امریکی فوج اور انٹیلی جنس اداروں نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں مشرق وسطیٰ میں اپنے فوجی اہلکاروں اور تنصیبات کی تعداد کم کرنے کے ممکنہ منصوبے پر غور شروع کردیا ہے،امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران کے ساتھ جاری تنازع ختم کرنے میں کامیابی کی صورت میں خطے میں امریکی فوجی موجودگی محدود کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی فوج اور انٹیلی جنس حکام کے درمیان اس حوالے سے غیر رسمی مشاورت جاری ہے، جس کا مقصد ممکنہ جنگ کے خاتمے کے بعد خطے میں امریکی موجودگی کے مستقبل کے لیے مختلف حکمت عملی تیار کرنا ہے۔

نائن الیون کے بعد توسیع

رپورٹ کے مطابق 11 ستمبر 2001 کے دہشتگرد حملوں کے بعد امریکا نے مشرق وسطیٰ اور اس کے گرد و نواح میں اپنی فوجی اور انٹیلی جنس سرگرمیوں کا دائرہ وسیع کیا،عراق، افغانستان، شام، ایران، یمن اور لیبیا میں مختلف نوعیت کی کارروائیوں اور آپریشنز کے لیے امریکا نے خطے میں فوجی اڈوں، اہلکاروں اور انٹیلی جنس نیٹ ورک کو وسعت دی،تاہم ایران کے ساتھ حالیہ تنازع کے دوران امریکی فوجی انفرااسٹرکچر کی بعض کمزوریاں بھی سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جس کے بعد امریکی حکام مستقبل کے فوجی ڈھانچے پر نظرثانی کررہے ہیں۔

50 ہزار امریکی اہلکار

 ایک اندازے  کے مطابق اس وقت مشرق وسطیٰ میں تقریباً 50 ہزار امریکی فوجی موجود ہیں، خطے میں امریکا کے دو طیارہ بردار بحری جہازوں سمیت ایک درجن سے زائد دیگر جنگی بحری جہاز بھی تعینات ہیں،رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ واپس بلائے گئے بعض سی آئی اے اہلکاروں کو دوبارہ خطے میں بھیجا جارہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا ایک جانب موجودگی محدود کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے تو دوسری جانب موجودہ حالات میں انٹیلی جنس صلاحیت برقرار رکھنے کی کوشش بھی کررہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :امریکہ کا میزائل حملہ ، ایرا ن کے 5 آئل ٹینکر تباہ کر دئیے

فوجی تنصیبات کا تحفظ

امریکی فوج خطے میں موجود اپنے باقی ماندہ دستوں اور تنصیبات کے تحفظ کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر بھی غور کررہی ہے،  ڈرونز اور میزائل حملوں سے حساس فوجی تنصیبات کو محفوظ رکھنے کے لیے بعض مقامات کو زیر زمین منتقل کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

زیر زمین اڈوں کی تجویز

پینٹاگون طویل عرصے سے امریکی فوجی اڈوں کو ممکنہ میزائل اور ڈرون حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے زیر زمین منتقل کرنے کے امکانات کا جائزہ لیتا رہا ہے، ایران کے حالیہ حملوں کے بعد اس نوعیت کے منصوبوں پر عمل درآمد کی ضرورت زیادہ نمایاں ہوگئی ہے، اس اقدام کا مقصد امریکی اہلکاروں اور اہم فوجی اثاثوں کو ممکنہ فضائی حملوں سے زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کرنا ہے۔

آئندہ سال کیلئے منصوبے

امریکی فوجی حکام نے خطے میں اپنی فورسز کے ڈھانچے میں ممکنہ تبدیلی کے لیے مختلف آپشنز بھی تیار کیے ہیں، جنہیں آئندہ سال تک عملی شکل دینے پر غور کیا جارہا ہے۔تاہم امریکی صدر کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں فوجی موجودگی کم کرنے کے حوالے سے اب تک کوئی واضح پالیسی یا حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

امریکی حکام کی جانب سے زیر غور منصوبوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن خطے میں اپنی طویل مدتی فوجی حکمت عملی کا ازسرنو جائزہ لے رہا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال نے خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کے تحفظ کو ایک اہم چیلنج بنا دیا ہے۔

editor

Related Articles