حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر نمایاں اضافہ کردیا ہے، جس کے بعد ملک بھر میں پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا ہوگیا،نئی قیمتوں کا اطلاق 10 ستمبر سے کردیا گیا ہے، جبکہ اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔
پیٹرول کتنا مہنگا؟
نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 3 روپے 40 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 367 روپے 75 پیسے فی لیٹر مقرر ہوگئی ہے،اس سے قبل پیٹرول کی قیمت 364 روپے 35 پیسے فی لیٹر تھی۔
ڈیزل کی قیمت میں بڑا اضافہ
ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں پیٹرول کے مقابلے میں زیادہ اضافہ کیا گیا ہے۔ ڈیزل 6 روپے 72 پیسے فی لیٹر مہنگا کردیا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 392 روپے 67 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے،حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتیں 10 ستمبر 2026 سے نافذ العمل ہوں گی،قیمتوں میں اضافے کے بعد شہریوں کو ایک مرتبہ پھر اضافی مالی بوجھ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
عوام کی مشکلات میں اضافہ
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے اثرات براہ راست عام صارفین پر پڑتے ہیں، ایندھن مہنگا ہونے سے نہ صرف ذاتی سفری اخراجات بڑھتے ہیں بلکہ ٹرانسپورٹ، اشیائے ضروریہ اور دیگر خدمات کی لاگت میں بھی اضافے کا خدشہ پیدا ہوجاتا ہے۔
ٹرانسپورٹ کرایوں پر اثر
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ اور مال بردار گاڑیوں کے اخراجات بھی بڑھ سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں مسافروں اور کاروباری طبقے پر اضافی بوجھ پڑنے کا امکان ہے۔
مہنگائی کا دباؤ برقرار
ماہرین کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، اس لیے ان میں ہونے والی تبدیلیاں مختلف شعبوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ ڈیزل مہنگا ہونے سے زرعی مشینری اور سامان کی نقل و حمل کے اخراجات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتوں کے نفاذ کے بعد عوام کی جانب سے ایک بار پھر حکومت سے ریلیف فراہم کرنے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔