امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی منڈی میں خام تیل کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم ترین پیشگوئی کر دی ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع مزید طویل نہیں چلے گا، اور امریکی مڈٹرم انتخابات کے بظاہر فوراً بعد نہ صرف جنگ ختم ہو جائے گی، بلکہ عالمی مارکیٹ میں پیٹرول کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی دیکھنے کو ملے گی۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی سطح سے بھی تجاوز کر چکی ہے، جس سے دنیا بھر میں معاشی بحران اور مہنگائی کی لہر پیدا ہو رہی ہے۔ اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے موقف اختیار کیا کہ ایران اس وقت شدید دباؤ میں ہے، اور اب اس میں اتنی طاقت نہیں بچی کہ وہ طویل عرصے تک مقابلہ کر سکے۔
انہوں نے کہا کہ مڈٹرم انتخابات کے نتائج سامنے آتے ہی صورتحال میں واضح تبدیلی آئے گی، اور تہران جنگ جاری رکھنے کی پوزیشن میں نہیں رہے گا۔
امریکی صدر نے اپنے خطاب میں ایران کے ایٹمی پروگرام کو عالمی امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا، تو اس کے نتائج پوری دنیا کے لیے انتہائی ہولناک ہوں گے۔
تاہم ایران کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کے حوالے سے ان کا موقف قدرے محتاط رہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ فی الحال کسی نئے معاہدے کے لیے بے صبری سے انتظار نہیں کر رہا، لیکن انہوں نے تہران کے ساتھ بات چیت کے دروازے مکمل طور پر بند کرنے سے بھی انکار کیا۔
ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ اگر آئندہ کوئی مذاکرات ہوتے ہیں، تو میز پر کئی ایسے نئے اور سخت نکات شامل کیے جائیں گے جو چند ماہ قبل زیرِ بحث نہیں تھے۔ ان کے بقول، موجودہ حالات کے باعث ایران کا اقتصادی اور جغرافیائی ڈھانچہ شدید متاثر ہو چکا ہے، یہی وجہ ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی کا بحران بھی جلد حل ہونے کی توقع ہے۔