پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں ایم آر آئی سہولت کی فراہمی کا فیصلہ

پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں ایم آر آئی سہولت کی فراہمی کا فیصلہ

 پنجاب کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتالوں میں ایم آر آئی کی سہولت فراہم کرنے کے بڑے منصوبے کو مشروط طور پر منظوری دے دی گئی ہے۔ منصوبے پر مجموعی طور پر 6 ارب 23 کروڑ 25 لاکھ 90 ہزار روپے لاگت آنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ 

منظوری کے ساتھ ہی متعلقہ حکام سے تمام ہسپتالوں کی ضروریات اور ایم آر آئی سہولت کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ بھی طلب کرلی گئی ہے۔

منصوبے کی منظوری کے دوران اس امر کی نشاندہی کی گئی کہ موجودہ پی سی ون میں بعض اہم اعداد و شمار اور تفصیلات مکمل طور پر شامل نہیں کی گئیں۔

خاص طور پر مختلف اضلاع میں بیماریوں کے بوجھ کی صورتحال، ایم آر آئی کے لیے مریضوں کے دوسرے ہسپتالوں کو ریفر کیے جانے کی شرح اور تشخیصی ٹیسٹ کے لیے مریضوں کو درپیش انتظار کے وقت سے متعلق جامع معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ حکام نے قرار دیا ہے کہ ان پہلوؤں کو واضح کرنے کے لیے ہسپتال وار رپورٹ ضروری ہے تاکہ مشینوں کی فراہمی کا فیصلہ حقیقی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاسکے۔

   یہ بھی پڑھیں :پمز سانحہ میں جاں بحق 14 بچوں کی میتیں ورثاء کے حوالے کر دی گئیں

محکمہ صحت کی جانب سے منصوبے کے حوالے سے دی جانے والی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس وقت پنجاب کے ڈی ایچ کیو ہسپتالوں میں ایم آر آئی کی سہولت انتہائی محدود ہے۔ صرف بہاولنگر اور شیخوپورہ کے ڈی ایچ کیو ہسپتالوں میں ایم آر آئی مشینیں موجود ہیں۔ دیگر اضلاع میں مریضوں کو جدید تشخیصی سہولت کے حصول کے لیے دوسرے سرکاری یا نجی مراکز کا رخ کرنا پڑتا ہے۔

منصوبے کے تحت ایسے اضلاع جہاں ایک سے زیادہ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال موجود ہیں وہاں ہر ہسپتال میں مشین نصب کرنے کے بجائے صرف ایک منتخب ڈی ایچ کیو ہسپتال کو ایم آر آئی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد دستیاب وسائل کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرنا اور ایسے مراکز میں سہولت فراہم کرنا ہے جہاں مریضوں کا دباؤ زیادہ ہو۔

منصوبے میں ایک ایم آر آئی مشین کی تخمینی قیمت 8 لاکھ 50 ہزار ڈالر مقرر کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ طبی مشینری اور دیگر ضروری آلات کی خریداری کے لیے 6 ارب 4 کروڑ 75 لاکھ 80 ہزار روپے مختص کیے گئے ہیں۔

دستاویزات کے مطابق ایم آر آئی کے دوران استعمال ہونے والی اشیا اور دیگر ضروری سامان کے لیے 6 کروڑ 99 لاکھ 30 ہزار روپے رکھے گئے ہیں۔ ہسپتالوں میں مشینوں کی تنصیب کے لیے معمولی تعمیراتی کاموں کی مد میں 10 کروڑ 50 لاکھ روپے جبکہ آئی ٹی انفراسٹرکچر کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایک کروڑ 8 لاکھ روپے منظور کیے گئے ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں :اڈیالہ جیل کے قیدیوں کی شفا ہسپتال منتقلی کی درخواست، عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا

حکام کی جانب سے ہسپتال وار رپورٹ طلب کیے جانے کے بعد آئندہ مرحلے میں ہر ضلع کی ضرورت کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ بیماریوں کے تناسب، مریضوں کی تعداد، ریفرل کے رجحان اور انتظار کے دورانیے کو سامنے رکھتے ہوئے ایم آر آئی مشینوں کی فراہمی کے لیے ترجیحات طے کیے جانے کا امکان ہے۔

صحت کے شعبے سے متعلق حکام کے مطابق منصوبے کا بنیادی مقصد ضلعی سطح پر جدید تشخیصی سہولیات کی دستیابی بہتر بنانا ہے تاکہ مریضوں کو پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص کے لیے بڑے شہروں یا دیگر مراکز کا رخ کم کرنا پڑے۔ تاہم حتمی عملدرآمد سے قبل ہسپتال وار ضروریات کی تفصیلات سامنے آنا منصوبے کی سمت طے کرنے میں اہم کردار ادا کرے  گا۔

editor

Related Articles