تیل دو، سامان لو! ایران نےامریکی پابندیوں سے بچنے کا نیا طریقہ ڈھونڈ لیا

تیل دو، سامان لو! ایران نےامریکی پابندیوں سے بچنے کا نیا طریقہ ڈھونڈ لیا

  ایران نے امریکی پابندیوں اور عالمی بینکاری نظام سے بچنے کے لیے چین کے ساتھ بارٹر نما تجارتی نظام اختیار کرلیا، جس کے تحت ایرانی تیل کے بدلے چین سے اربوں ڈالر مالیت کی مختلف اشیا حاصل کی جارہی ہیں۔

تیل کے بدلے اشیا کی خریداری

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق تجارت سے باخبر افراد اور دو اعلیٰ ایرانی ذرائع نے بتایا کہ نئے طریقہ کار کے تحت ایران تیل کی فروخت جاری رکھتے ہوئے چین سے ادویات، گاڑیاں، مواصلاتی آلات اور دیگر اشیا حاصل کررہا ہے۔

بینکاری نظام سے گریز

رپورٹ کے مطابق اس نظام میں روایتی بینکاری نظام کے ذریعے براہِ راست مالی لین دین سے گریز کیا جاتا ہے۔ ایرانی تیل کے بدلے چین سے درآمد کی جانے والی اشیا کے لیے کریڈٹ حاصل کیا جاتا ہے، جبکہ سامان تیار کرنے والی کمپنیاں براہِ راست ایران کے ساتھ مالی معاملات نہیں کرتیں۔

پابندیوں سے بچنے کی کوشش

ذرائع کے مطابق اس طریقہ تجارت کا مقصد امریکی پابندیوں اور بین الاقوامی مالیاتی نظام کی ان پابندیوں سے بچنا ہے جو ایران کے ساتھ تجارت اور مالی لین دین کو متاثر کرتی ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں :امریکا کی ایران پر نئی پابندیاں،کون کون سے شعبے زد میں آئیں گے ؟ تفصیلات سامنے آ گئیں

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران کم از کم اسی طرز کے تجارتی طریقہ کار سے ایران نے فضائی دفاعی سازوسامان کی فراہمی سے متعلق معاہدوں میں بھی فائدہ حاصل کیا۔

دیگر راستے بھی استعمال

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران صرف بارٹر نما تجارت پر انحصار نہیں کررہا بلکہ ایسے دیگر ذرائع بھی استعمال کیے جارہے ہیں جن کے ذریعے بین الاقوامی بینکاری نظام سے گزرے بغیر چینی کمپنیوں سے مختلف اشیا اور خدمات حاصل کی جاسکیں۔

تاہم ذرائع نے مبینہ لین دین کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں اور خبر ایجنسی نے بھی ان معاملات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہ ہونے کا اعتراف کیا ہے۔

چین کا مؤقف

بارٹر تجارت سے متعلق سوالات پر چینی وزارت خارجہ نے کہا کہ وہ بیان کردہ صورتحال سے آگاہ نہیں، تاہم چین ہمیشہ یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کرتا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :امریکا کی سخت پابندیوں کے سامنے ثابت قدم ہیں اور رہیں گے،ایرانی صدر

دوسری جانب ایران کے نیویارک اور جنیوا میں اقوام متحدہ کے مشنز نے خبر ایجنسی کی جانب سے تبصرے کے لیے بھیجی گئی درخواستوں کا تاحال جواب نہیں دیا۔

editor

Related Articles