سعودی عرب پر حملوں کے تانے بانے مل گئے، اعلیٰ کمانڈر عہدے سے برطرف

سعودی عرب پر حملوں کے تانے بانے مل گئے، اعلیٰ کمانڈر عہدے سے برطرف

سعودی عرب کی آئل پائپ لائن پر ہونے والے ڈرون حملوں کے تانے بانے عراق سے ملنے پر عراقی حکومت نے صوبہ میسان کے اعلیٰ فوجی کمانڈر کو فوری طور پر عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔

عراقی وزیرِ اعظم نے واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیشن قائم کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ملکی سرزمین کسی پڑوسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔

عراقی سرزمین کے استعمال پر زیرو ٹالرنس

عراقی وزیرِ اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک اہم اعلامیے کے مطابق، حالیہ تحقیقات میں یہ سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے کہ سعودی عرب کی تنصیبات پر ہونے والے ڈرون حملوں کا تعلق عراقی سرزمین سے تھا۔

اس سنگین سیکیورٹی غفلت پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے عراقی وزیرِ اعظم اور مسلح افواج کے کمانڈر اِن چیف، علی الزیدی نے جنوبی عراق کے صوبے میسان میں فوجی آپریشنز کی نگرانی کرنے والے اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار کو ان کے عہدے سے فارغ کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب کو حوثی ملیشیا کی دھمکیاں ناقابلِ قبول، پاکستانی جہازوں پر حملے کو قومی سلامتی کا خطرہ سمجھا جائے گا، دفتر خارجہ

حکومت کے ترجمان صباح النعمان نے اس حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب سیکیورٹی اداروں کو ٹھوس شواہد ملے کہ سعودی عرب کے خلاف حالیہ حملے میسان صوبے کے اندر واقع ایک مخصوص مقام سے کیے گئے تھے۔

معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے وزیرِ اعظم نے میسان آپریشنز کمانڈ کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیشن بھی قائم کر دیا ہے تاکہ ان حملوں کے اصل محرکات اور سہولت کاروں کو بے نقاب کیا جا سکے۔

سعودی عرب کا تحمل اور سفارتی رابطے

ان ڈرون حملوں کے فوراً بعد دونوں برادر ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح پر رابطے کیے گئے۔ جمعے کو عراقی وزیرِ خارجہ فواد حسین نے اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلی فون پر طویل گفتگو کی۔

اس گفتگو میں علاقائی سلامتی کو برقرار رکھنے اور مسلسل رابطہ کاری کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

عراقی وزیرِ اعظم علی الزیدی نے سعودی عرب کی قیادت کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے جس میں ریاض نے جوابی کارروائی سے گریز کا راستہ اپنایا۔

بغداد نے عراقی سرزمین سے مزید حملے روکنے اور جامع تحقیقات مکمل کرنے کے لیے ریاض سے وقت مانگا تھا، جسے سعودی حکام نے تسلیم کر لیا۔

وزیرِ اعظم نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ عراق ایسی کسی بھی کارروائی کو قبول نہیں کرے گا جو ملکی سلامتی یا ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کو خطرے میں ڈالے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنی فضائی حدود اور سرزمین کو دوسروں پر حملے کا لانچنگ پیڈ نہیں بننے دیں گے۔

ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر حملے کا پس منظر

واضح رہے کہ کچھ روز قبل سعودی عرب کی اسٹریٹجک اہمیت کی حامل ’ایسٹ ویسٹ پائپ لائن‘ کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

ریاض نے ابتدائی تحقیقات کے بعد یہ دعویٰ کیا تھا کہ یہ حملہ عراق کی جانب سے آنے والے متعدد ڈرونز کے ذریعے کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سعودی عرب نے 1200 کلومیٹر طویل آئل پائپ لائن عارضی طور پر بند کردی

اس واقعے میں نہ صرف مالی نقصان ہوا بلکہ کچھ افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔ حملے کے فوراً بعد حفاظتی اقدام کے طور پر سعودی حکام نے ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں پائپ لائن کی سرگرمیاں عارضی طور پر روک دی تھیں۔

تیل کی یہ پائپ لائن عالمی منڈی کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور اس پر حملے نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی تھی۔

علاقائی سلامتی اور سفارتی پختگی کا امتحان

مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ سیکیورٹی حالات کے تناظر میں، عراقی حکومت کا یہ اقدام انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس واقعے سے دو باتیں واضح طور پر سامنے آتی ہیں۔

اول، سعودی عرب نے اس واقعے میں روایتی جارحیت کے بجائے غیر معمولی سفارتی پختگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ریاض نے جوابی کارروائی کے بجائے بغداد کو موقع دیا کہ وہ اپنے اندرونی سیکیورٹی معاملات کو خود ٹھیک کرے۔

دوم، عراقی وزیرِ اعظم کی جانب سے فوری طور پر اعلیٰ فوجی کمانڈر کی برطرفی اس بات کا غماز ہے کہ بغداد اب غیر ریاستی عناصر اور مسلح گروہوں کو قابو کرنے کے لیے سنجیدہ ہے۔

صوبہ میسان طویل عرصے سے بعض مسلح گروہوں کا گڑھ سمجھا جاتا رہا ہے۔ وہاں کے آپریشنز چیف کی برطرفی دراصل ان عناصر کے لیے ایک سخت پیغام ہے کہ ریاستی عملداری کو چیلنج کرنے کی اب مزید اجازت نہیں دی جائے گی۔

یہ واقعہ مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان انٹیلی جنس شیئرنگ اور سیکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔

Related Articles